حدیث نمبر: 15290
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَدِمْنَا مُهَاجِرِينَ ، فَسَلَكْنَا فِي ثَنِيَّةٍ صَعْبَةٍ ، فَنَفَرَ بِي جَمَلٌ كُنْتُ عَلَيْهِ نُفُورًا مُنْكَرًا ، فَوَاللَّهِ مَا أَنْسَى قَوْلَ أُمِّي : يَا عَرِبْسَةُ ، فَرَكِبَتْ فِي رَأْسِهِ ، فَسَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ : أَلْقِي خِطَامَهُ ، فَأَلْقَيْتُهُ ، فَقَامَ يَسْتَدِيرُ كَأَنَّمَا إِنْسَانٌ قَائِمٌ تَحْتَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ ہجرت کر کے آ گئے ، ہم ایک دشوار گزار گھاٹی میں چل رہے تھے اسی دوران میرا اونٹ سرکش ہو گیا ، جس اونٹ پر میں سوار تھی وہ بری طرح سے سرکش ہو گیا تھا ۔ اللہ کی قسم ! اپنی والدہ کا جملہ نہیں بھولی انہوں نے کہا: اے میری چھوٹی سی دلہن ! اس اونٹ نے مجھے اپنے سر کی طرف کر لیا تو میں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس کی لگام چھوڑ دو ! میں نے اس کی لگام چھوڑی تو وہ کھڑا ہو کر گھومنے لگا ، یوں جیسے وہ انسان ہو اور کھڑا ہوا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15290
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔