کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 15250
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : وَأُمُّ بَنِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَنَاتِهِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ : خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ - وَكَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ : الطَّاهِرَةُ - بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ ، وَأُمُّهَا : فَاطِمَةُ بِنْتُ زَائِدَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، وَهُوَ الْأَصَمُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، وَأُمُّهَا هَالَةُ بِنْتُ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُنْقِذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، وَأُمُّهَا : الْعَرِقَةُ ، وَاسْمُهَا قِلَابَةُ بِنْتُ سَعْدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هَصِيصِ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ . وَحِبَّانُ بْنُ عَبْدِ مَنَافٍ - أَخُو هَالَةَ لِأَبِيهَا وَأَمِّهَا - هُوَ الَّذِي رَمَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرِقَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَرَّقَ اللَّهُ وَجْهَكَ فِي النَّارِ " . فَأَصَابَ أَكْحَلْ سَعْدٍ - رَحِمَ اللَّهُ سَعْدًا - فَمَاتَ شَهِيدًا . ¤ وَكَانَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عَتِيقِ بْنِ عَائِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَخْزُومٍ فَوَلَدَتْ لَهُ هِنْدَ بْنَ عَتِيقٍ ، ثُمَّ خَلَفَ عَلَيْهَا أَبُو هَالَةَ مَالِكُ بْنُ نَبَّاشِ بْنِ زُرَارَةَ بْنِ وَقْدَانَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ عَدِيٍّ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ حَلِيفُ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ ، فَوَلَدَتْ لَهُ هِنْدًا وَهَالَةَ ، فَهِنْدُ بْنُ عَتِيقِ بْنِ عَايِدٍ ، وَهِنْدُ وَهَالَةُ ابْنَا أَبِي هَالَةَ مَالِكِ بْنِ نَبَّاشِ بْنِ زُرَارَةَ ، إِخْوَةُ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ مِنْ أُمِّهِمْ . ¤
محمد محی الدین
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹوں اور آپ کی تمام صاحبزادیوں کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں جو زمانہ جاہلیت میں طاہرہ بنت اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی تھیں ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ بن جندب ہے ، جندب نامی صاحب اصم بن حجر بن عبدمعیص بن عامر بن لؤی ہیں ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام ہالہ بنت مناف بن حارث بن منقذ بن عمرو بن معيص بن عامر بن لؤی ہے ، اور اس خاتون کی والدہ کا نام عرقہ ہے اس خاتون کا نام اصل میں کلابہ تھا ، وہ سعد بن سہل بن عمرو بن حصیص بن کعب بن لؤی کی صاحبزادی ہیں ، حبان بن عبد بن مناف ہالہ نامی اس خاتون کے سگے بھائی تھے یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے غزوہ خندق کے موقع پر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر مارا تھا اور یہ کہا: تھا اس کو سنبھالو میں ابن عرقہ ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ تیرے چہرے کو جہنم میں عرق آلود کرے ، وہ تیر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ پر لگا تھا اور اسی وجہ سے وہ شہید ہوئے تھے ۔ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عتیق بن عائذ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم سے شادی کی تھی ، انہوں نے ان صاحب کے بیٹے ہند بن عقیق کو جنم دیا تھا پھر اس کے بعد ان کے ساتھ ابوہالہ مالک بن نباش بن زراه بن وقدان بن حبیب بن سلامہ بن عدی نے شادی کی تھی جن کا تعلق بنو اسد بن عمرو بن تمیم سے تھا اور وہ بن عبدالدار بن قصی کے حلیف تھے ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کے بیٹے ہند بن ابوہالہ کو جنم دیا تھا وہ صاحب ہند بن عتیق بن عائذ ہیں ہند اور ہالہ یہ دونوں ابوہالہ مالک بن نباش بن زرارہ کے بیٹے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کے ، ان کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بہن بھائی ہیں ۔
حدیث نمبر: 15251
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ بِمَكَّةَ ، وَهِيَ أَوَّلُ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ عِنْدَ أَبِي هَالَةَ التَّمِيمِيِّ ، وَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ سَنَةً ، وَتُوُفِّيَتْ لِسَبْعِ سِنِينَ مَضَيْنَ مِنْ مَبْعَثِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی یہ وہ پہلی خاتون ہیں جن کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی تھی ، یہ خاتون اس سے پہلے ابوہالہ تمیمی کی اہلیہ تھیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی تو ان کی عمر اکیس سال تھی اور ان کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے سات سال گزرنے کے بعد ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15252
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَسَدٍ زَوَّجَ خَدِيجَةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً ، وَقُرَيْشٌ تَبْنِي الْكَعْبَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعُمَرُ هَذَا مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عمر بن ابوبکر مؤملی بیان کرتے ہیں : عمرو بن اسد نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروائی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی تھی اس وقت آپ کی عمر پچیس سال تھی اور قریش اس وقت خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عمر نامی یہ راوی متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عمر نامی یہ راوی متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15253
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : نَكَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً . وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی تھی اس وقت آپ کی عمر سینتیس سال تھی ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15254
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ أَسَدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ ، هَذَا الْفَحْلُ لَا يُقْرَعُ أَنْفُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن محمد بن یحیی بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” عمرو بن اسد نے کہا: محمد بن عبداللہ نے ، خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے اور وہ ایک ایسے نوجوان ہیں ، جن کی ناک پر نہیں مارا جا سکتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15255
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : كَانَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ ، ثُمَّ نَزَلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَهِيَ عِنْدَهُ ، وَهِيَ أَوَّلُ مَنْ صَدَّقَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَآمَنَ بِهِ ، وَتُوُفِّيَتْ بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ زُبَالَةَ أَيْضًا ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہونے سے پہلے آپ کی اہلیہ تھیں پھر آپ پر قرآن نازل ہوا تو وہ آپ کی اہلیہ رہیں وہ پہلی خاتون ہیں : جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ کی طرف تشریف لے جانے سے تین سال پہلے مکہ میں ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں بھی ایک راوی ابن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں بھی ایک راوی ابن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15256
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ ، وَمِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي رِجَالِهِ ضَعْفٌ ، وَوَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
مالک بن حویرث بیان کرتے ہیں : مردوں میں سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا اور خواتین میں سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15257
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : خَدِيجَةُ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِيهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( یعنی آپ کے دست اقدس پر ) اسلام قبول کرنے والے پہلے افراد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15258
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ ، وَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مردوں میں سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا اور خواتین میں سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15259
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں ( سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نسب یہ ہے : ) ” سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15260
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ ، وَهِيَ أَوَّلُ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ أُمُّ وَلَدِهِ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ ، إِلَّا إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَإِنَّهُ مِنْ سُرِّيَّتِهِ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی ، یہ وہ پہلی خاتون ہیں جس کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی تھی اور یہ آپ کی تمام مذکر اور مؤنث اولاد کی والدہ ہیں ، صرف سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پیدا ہوئے تھے ۔
حدیث نمبر: 15261
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ قَالَ : تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ ، وَهِيَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ ، وَلَمْ يَتَزَوَّجْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ غَيْرَهَا ، وَلَمْ يَلِدْ لَهُ مِنَ الْمَهَايِرِ غَيْرُهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کا انتقال ہجرت سے تین سال پہلے ہو گیا تھا ، وہ خاتون ، مردوں اور عورتوں میں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت میں ( یعنی اعلان نبوت سے پہلے ) ان کے علاوہ اور کسی خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی اور ان کے علاوہ اور کسی ( زوجہ محترمہ ) سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن العلاء ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ امام طبرانی نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ عروہ بن زبیر کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن العلاء ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ امام طبرانی نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ عروہ بن زبیر کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15262
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : لَمْ يَتَزَوَّجْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَدِيجَةَ حَتَّى مَاتَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے اور کسی خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی یہاں تک کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15263
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نماز کی فرضیت کا حکم نازل ہونے سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15264
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ خَدِيجَةَ وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ عَنْ أَنْ يُزَوِّجَهُ ، فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا ، فَدَعَتْ أَبَاهَا وَنَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ ، فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا ، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ : إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُنِي ، فَزَوِّجْنِي إِيَّاهُ . فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ ، فَخَلَّفَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً ، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ سُكْرُهُ نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةً ، فَقَالَ : مَا شَأْنِي ؟ ! مَا هَذَا ؟ ! قَالَتْ : زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَنَا أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ ؟ لَا لَعَمْرِي . قَالَتْ خَدِيجَةُ : أَلَا تَسْتَحْيِي ؟ تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ ؟ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ ؟ ! فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام بھیجا ان کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کھانا اور مشروب تیار کیا انہوں نے اپنے والد اور قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کی دعوت کی ان لوگوں نے کھانا کھایا اور شراب پی لی یہاں تک کہ وہ لوگ مدہوش ہو گئے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: محمد بن عبداللہ نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ہے میری شادی اس کے ساتھ کروا دیں تو ان کے والد نے ان کی شادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروا دی پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خوشبو لگائی اور حلہ پہنے کے لئے دیا وہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ اسی طرح کیا کرتے تھے جب ان صاحب کا نشہ ختم ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ انہیں خوشبو بھی لگی ہوئی تھی اور ان کے جسم پر حلہ بھی تھا ، انہوں نے کہا: کیا معاملہ ہے یہ کس وجہ سے ہے ، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ نے میری شادی محمد بن عبداللہ سے کروا دی ہے ، تو ان کے والد نے کہا: کیا میں ابوطالب کے زیر پرورش یتیم لڑکے سے شادی کراؤں گا ؟ جی نہیں ! میری زندگی کی قسم ( ایسا نہیں ہو سکتا ) سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ کو حیاء محسوس نہیں ہوتی ؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ قریش کے سامنے اپنے آپ کو بے وقوف قرار دیں اور لوگوں کو بتائیں کہ آپ نشے کے عالم میں تھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ شخص راضی ہو گئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد اور امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد اور امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15265
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ النَّاسُ مِنْ تَزْوِيجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ ، يَقُولُ : أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِتَزْوِيجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِيَّاهَا : كُنْتُ مِنْ إِخْوَانِهِ ، فَكُنْتُ لَهُ خِدْنًا وَإِلْفًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَإِنِّي خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ حَتَّى مَرَرْنَا عَلَى أُخْتِ خَدِيجَةَ ، وَهِيَ جَالِسَةٌ عَلَى أَدَمٍ لَهَا ، فَنَادَتْنِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهَا ، وَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : أَمَا لِصَاحِبِكَ فِي تَزْوِيجِ خَدِيجَةَ حَاجَةٌ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " بَلَى لَعَمْرِي " . فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : اغْدُ عَلَيْنَا إِذَا أَصْبَحْتَ غَدًا ، فَغَدَوْنَا عَلَيْهِمْ ، فَوَجَدْنَاهُمْ قَدْ ذَبَحُوا بَقَرَةً ، وَأَلْبَسُوا أَبَا خَدِيجَةَ حُلَّةً ، وَضَرَبُوا عَلَيْهِ قُبَّةً ، فَكَلَّمْتُ أَخَاهَا ، فَكَلَّمَ أَبَاهَا ، وَأَخْبَرْتُهُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِمَكَانِهِ ، وَأَنَّهُ سَأَلَ أَنْ يُزَوِّجَهُ خَدِيجَةَ ، فَزَوَّجَهُ ، فَصَنَعُوا مِنَ الْبَقَرَةِ طَعَامًا فَأَكَلْنَا مِنْهُ ، وَنَامَ أَبُوهَا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ الْحُلَّةُ ، وَهَذِهِ الْقُبَّةُ ، وَهَذَا الطَّعَامُ ؟ ! قَالَتْ لَهُ ابْنَتُهُ الَّتِي كَلَّمَتْ عَمَّارًا : هَذِهِ الْحُلَّةُ كَسَاكَهَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ خَتَنُكَ ، وَهَذِهِ بَقَرَةٌ أَهْدَاهَا لَكَ فَذَبَحْنَاهَا حِينَ زَوَّجْتَهُ خَدِيجَةَ ، فَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ زَوَّجَهُ ، وَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ الْحِجْرَ ، وَجَاءَتْ بَنُو هَاشِمٍ حِينَ جَاءُوا ، فَقَالَ : أَيْنَ صَاحِبُكُمُ الَّذِي تَزْعُمُونَ أَنِّي زَوَّجْتُهُ ؟ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ : إِنْ كُنْتُ زَوَّجْتُهُ وَإِلَّا فَقَدْ زَوَّجْتُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب وہ لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں سنتے تھے تو یہ فرمایا کرتے تھے میں اس خاتون کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کے بارے میں سب سے زیاہ علم رکھتا ہوں زمانہ جاہلیت میں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریبی ساتھی تھا ، ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا ہمارا گزر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے پاس سے ہوا جو اپنے چمڑے کے ایک خیمے میں موجود تھیں ، انہوں نے مجھے بلایا ، میں ان کے پاس چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں رک گئے ۔ اس خاتون نے کہا: کیا آپ کے ساتھی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا : جی ہاں مجھے اپنی زندگی کی قسم ، میں اس خاتون کے پاس واپس گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کہی ہوئی بات کے بارے میں اسے بتایا تو اس خاتون نے کہا: جب کل صبح ہو تو آپ ہمارے پاس آ جائیں ، ہم اگلے دن ان لوگوں کے پاس گئے تو ہم نے ان لوگوں کو پایا کہ ان لوگوں نے ایک گائے ذبح کی ہوئی تھی اور انہوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد کو حلہ پہنایا ہوا تھا اور وہاں ایک قبہ لگایا ہوا تھا ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی کے ساتھ بات چیت کی ، ان کے بھائی نے ان کے والد کے ساتھ بات چیت کی اور انہوں نے انہیں اللہ کے رسول اور ان کی حیثیت کے بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ کہا: کہ وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی شادی کر دیں ، تو ان لوگوں نے ان کی شادی کروا دی ، ان لوگوں نے گائے کے گوشت کا کھانا پکوایا ، ہم نے اسے کھایا ، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد سو گئے ، جب وہ بیدار ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا : یہ حلہ کہاں سے آیا ہے ، اور یہ خیمہ کس لئے لگا ہے ، اور یہ کھانا کس وجہ سے ہے ؟ تو ان کی اس صاحبزادی نے جس نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کی تھی ، انہیں بتایا کہ یہ حلہ آپ کو محمد بن عبداللہ نے پہنایا ہے جو آپ کے داماد ہیں اور یہ گائے انہوں نے آپ کو تحفے کے طور پر دی ہے ، جب آپ نے ان کے ساتھ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی تو اس وقت ہم نے انہیں قربان کیا تھا ، تو ان صاحب نے اس بات کا انکار کیا کہ انہوں نے یہ شادی کروائی ہے ، وہ وہاں سے نکل کر حطیم کے پاس آئے ، جب بنو ہاشم آئے تو ان صاحب نے دریافت کیا : تمہارا وہ فرد کہاں ہے جس کے بارے میں تم لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ میں نے اس کی شادی کروائی ہے ، جب ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو ان صاحب نے کہا: اگر میں ان کی شادی کروا چکا ہوں تو ٹھیک ہے ، ورنہ میں اب ان کی شادی کروا دیتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوبکر مؤملی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوبکر مؤملی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15266
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ - أَوْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْعَى غَنَمًا فَاسْتَعْلَى الْغَنَمُ ، فَكَانَ فِي الْإِبِلِ هُوَ وَشَرِيكٌ لَهُ ، فَأَكْرَيَا أُخْتَ خَدِيجَةَ ، فَلَمَّا قَضَوُا السَّفَرَ بَقِيَ لَهُمْ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، فَجَعَلَ شَرِيكُهُمْ يَأْتِيهَا فَيْتَقَاضَاهُمْ ، وَيَقُولُ لِمُحَمَّدٍ : انْطَلَقَ ، فَيَقُولُ : " اذْهَبْ أَنْتَ ; فَإِنِّي أَسْتَحِي " . فَقَالَتْ مَرَّةً وَأَتَاهُمْ : فَأَيْنَ مُحَمَّدٌ ؟ قَالَ : قَدْ قُلْتُ لَهُ ، فَزَعَمَ أَنَّهُ يَسْتَحِي ، فَقَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ حَيَاءً ، وَلَا أَعَفَّ ، وَلَا وَلَا ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ أُخْتِهَا خَدِيجَةَ ، فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : ائْتِ أَبِي فَاخْطُبْنِي ، قَالَ : " أَبُوكِ رَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ ، وَهُوَ لَا يَفْعَلُ " . قَالَتْ : انْطَلِقْ فَالْقَهُ فَكَلِّمْهُ فَأَنَا أَكْفِيكَ ، وَائْتِ عِنْدَ سُكْرِهِ ، فَفَعَلَ ، فَأَتَاهُ فَزَوَّجَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ ، فَقِيلَ لَهُ : أَحْسَنْتَ زَوَّجْتَ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ : أَوَقَدْ فَعَلْتُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَامَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ : إِنِّي قَدْ زَوَّجْتُ مُحَمَّدًا قَالَتْ : بَلَى ، فَلَا تُسَفِّهَنَّ رَأْيَكَ ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا كَذَا ، فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ ، ثُمَّ بَعَثَتْ إِلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَقِيَّتَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ أَوْ ذَهَبٍ ، وَقَالَتْ : اشْتَرِ حُلَّةً وَاهْدِهَا لِي ، وَكَبْشًا ، وَكَذَا وَكَذَا ، فَفَعَلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ أَيْضًا إِلَّا أَنَّ شَيْخَهُ أَحْمَدَ بْنَ يَحْيَى الصُّوفِيَّ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . وَقَالَ فِيهِ : قَالَتْ : "وَأْتِهِ غَيْرَ مُكْرَهٍ" . بَدَلَ : "سُكْرُهُ" . وَقَالَتْ فِي الْحُلَّةِ : "فَأَهْدِهَا إِلَيْهِ" . بَدَلَ : "إِلَيَّ" . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک اور صاحب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے بکریاں چرایا کرتے تھے ، پھر آپ نے بکریاں چرانا چھوڑ کر اونٹوں کو چرانا شروع کر دیا ، آپ ایسا کرتے تھے آپ کے ساتھ آپ کا ایک شراکت دار ہوتا تھا ، پھر ان دونوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے لئے کام کرنا شروع کیا جب ان لوگوں نے اپنا تجارتی سفر مکمل کیا تو ان لوگوں کا اس خاتون کے ذمہ کچھ معاوضہ رہ گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا شراکت دار ان لوگوں کے پاس جاتا تھا اور ان سے تقاضا کرتا تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کرتا تھا کہ آ جائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے : تم چلے جاؤ کیونکہ مجھے شرم آتی ہے ، ایک دن جب وہ شخص ان لوگوں کے پاس تقاضا کرنے کے لئے گیا تو اس خاتون نے کہا: محمد کہاں ہیں ، تو اس شخص نے بتایا کہ میں نے ان سے کہا: تھا ( کہ آپ بھی چلیں ) لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ انہیں شرم آتی ہے ، تو اس خاتون نے کہا: میں نے ان سے زیادہ شرم والا شخص کوئی نہیں دیکھا اور ان سے زیادہ بہتر طور پر نگرانی کرنے والا کوئی نہیں دیکھا ، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے دل میں یہ خیال آیا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ان کے ساتھ شادی ہونی چاہیے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا اور یہ کہا: کہ آپ میرے والد کے پاس آئیں اور شادی کا پیغام دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ کے والد ایک ایسے شخص ہیں جن کے پاس مال بہت زیادہ ہے ، وہ ایسا نہیں کریں گے ، تو انہوں نے کہا: آپ جائیں ان سے ملاقات کریں اور ان سے بات چیت کریں ، میں سنبھال لوں گی ، آپ ان کے پاس اس وقت جائیں جب وہ نشے کے عالم میں ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے ، ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کروا دی ، جب صبح ہوئی اور وہ محفل میں بیٹھے تو ان سے کہا: گیا آپ نے اچھا کیا جو سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ شادی کروا دی ، انہوں نے دریافت کیا : کیا میں نے ایسا کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ، تو وہ صاحب کھڑے ہوئے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے محمد کے ساتھ شادی کروا دی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، اب آپ اپنی رائے کو بے وقوفی ظاہر نہ کیجئے گا کیونکہ سیدنا محمد اس اس طرح کے آدمی ہیں ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ صاحب راضی ہو گئے ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا اور انہیں سونے یا چاندی کے دو اوقیہ بھیجے اور یہ کہا: کہ آپ اس کے ذریعے حلہ خریدیں اور اس حلے کو مجھے تحفے کے طور پر دیں اور ایک دنبہ خریدیں اور اس اس طرح کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے امام بزار کے رجال بھی اسی طرح ہیں تاہم ان کے استاد أحمد بن یحیی صوفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ صحیح کے رجال میں سے نہیں ہے لیکن انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ان کے پاس ایسے جائیں کہ زبردستی نہ ہو ، انہوں نے لفظ نشے کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے ، اور حلے کے بارے میں یہ کہا: ہے کہ آپ یہ حلہ انہیں تحفے کے طور پر دیں ۔ یعنی یہ نہیں کہا: کہ مجھے تحفے کے طور پر دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے امام بزار کے رجال بھی اسی طرح ہیں تاہم ان کے استاد أحمد بن یحیی صوفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ صحیح کے رجال میں سے نہیں ہے لیکن انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ان کے پاس ایسے جائیں کہ زبردستی نہ ہو ، انہوں نے لفظ نشے کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے ، اور حلے کے بارے میں یہ کہا: ہے کہ آپ یہ حلہ انہیں تحفے کے طور پر دیں ۔ یعنی یہ نہیں کہا: کہ مجھے تحفے کے طور پر دیں ۔
حدیث نمبر: 15267
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَوَّلُ شَيْءٍ عَلِمْتُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمْتُ مَكَّةَ فِي عُمُومَةٍ لِي ، فَأُرْشِدْنَا عَلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي زَمْزَمَ ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ ، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَابِ الصَّفَا أَبْيَضُ تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ ، لَهُ وَفْرَةٌ جَعْدَةٌ إِلَى أَطْرَافِ أُذُنَيْهِ ، أَشَمُّ ، أَقْنَى الْأَنْفِ ، بَرَّاقُ الثَّنَايَا ، أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ ، كَثُّ اللِّحْيَةِ ، دَقِيقُ الْمَسْرُبَةِ ، شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ ، كَأَنَّهُ الْقَمَرُ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، يَمْشِي عَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ أَمَرَدُ ، حَسَنُ الْوَجْهِ ، مُرَاهِقٌ أَوْ مُحْتَلِمٌ ، تَقْفُوهُمُ امْرَأَةٌ قَدْ سَتَرَتْ مَحَاسِنَهَا ، حَتَّى قَصَدَ نَحْوَ الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ، ثُمَّ اسْتَلَمَهُ الْغُلَامُ وَاسْتَلَمَتِ الْمَرْأَةُ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَالْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ يَطُوفُونَ مَعَهُ ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ ، وَقَامَ الْغُلَامُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ ، وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ خَلْفَهُمَا ، وَرَفَعَتْ يَدَيْهَا وَكَبَّرَتْ ، وَأَطَالَ الْقُنُوتَ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، فَقَنَتَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ مَعَهُ ، يَصْنَعَانِ مِثْلَ مَا يَصْنَعُ يَتْبَعَانِهِ . ¤ قَالَ : فَرَأَيْنَا شَيْئًا لَمْ نَكُنْ نَعْرِفُهُ بِمَكَّةَ ، فَأَنْكَرْنَا ، فَأَقْبَلْنَا عَلَى الْعَبَّاسِ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، إِنَّ هَذَا الدِّينَ لَمْ نَكُنْ نَعْرِفُهُ فِيكُمْ ، أَشَيْءٌ حَدَثَ ؟ قَالَ : أَجَلْ وَاللَّهِ ، أَمَا تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ قُلْنَا : لَا . قَالَ : هَذَا ابْنُ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْغُلَامُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَالْمَرْأَةُ : خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى هَذَا الدِّينِ إِلَّا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ اثْنَانِ أَحَدُهُمَا : يَحْيَى بْنُ حَاتِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَالْآخَرُ : بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو چیز مجھے سب سے پہلے پتہ چلی وہ یہ ہے کہ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مکہ آیا تو ہماری رہنمائی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی ، ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ زم زم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے ، ہم ان کے پاس موجود تھے اسی دوران صفا والے دروازے کی طرف سے ایک شخص آیا جس کا رنگ گورا تھا اس پر سرخی غالب تھی اس کے بال لمبے تھے اور گھنگھریالے تھے اور کانوں کے کونوں تک آ رہے تھے وہ اٹھی ہوئی ناک کا مالک شخص تھا اور اس کے سامنے کے دانت چمک دار تھے اس کی آنکھوں کے سفید اور سیاہ رنگ میں چمک تھی اس کی داڑھی گھنی تھی سینے پر پتلے سے بال تھے ہتھیلی اور پاؤں پُر گوشت تھے اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ چودھویں رات کا چاند ہو اس کے دائیں طرف ایک نوجوان چلتا ہوا آ رہا تھا جس کی داڑھی نہیں نکلی تھی اس کا چہرہ بھی خوبصورت تھا اور وہ قریب البلوغ تھا ان کے پیچھے ایک خاتون آ رہی تھی جس نے اپنی خوبصورتی کو پردے میں رکھا ہوا تھا یہ لوگ حجر اسود کے پاس آئے انہوں نے اس کا استلام کیا پھر اس لڑکے نے استلام کیا پھر اس خاتون نے استلام کیا پھر انہوں نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے وہ لڑکا اور خاتون ان صاحب کے ساتھ چکر لگا رہے تھے جب بھی وہ رکن کا استلام کرتے تھے تو دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہتے تھے پھر جب انہوں نے رکن کا استلام کر لیا تو انہوں نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی لڑکا ان کے دائیں طرف کھڑا ہو گیا اس نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی خاتون ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی اس نے بھی دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی یہ لوگ خاصی دیر کھڑے رہے پھر یہ رکوع میں گئے تو خاصی دیر رکوع میں رہے پھر انہوں نے رکوع سے سر اٹھایا اور کھڑے رہے وہ سیدھے کھڑے رہے پھر وہ سجدے میں چلے گئے لڑکا اور عورت بھی ان کے ساتھ سجدے میں چلے گئے اور وہ اسی طرح کرتے رہے جس طرح وہ صاحب کرتے رہے وہ دونوں ان صاحب کی پیروی کر رہے تھے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے ایک ایسی چیز دیکھی تھی جو ہم نے اُس سے پہلے مکہ میں نہیں دیکھی تھی ، تو ہمیں یہ بڑی حیران کن لگی ہم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے کہا: اے ابوالفضل اس دین کے پہلے آپ کے درمیان مکہ میں موجود ہونے کے حوالے سے ہم واقف نہیں تھے کیا یہ کوئی نئی چیز آئی ہے تو انہوں نے بتایا اللہ کی قسم ! جی ہاں ! کیا تم انہیں نہیں جانتے ؟ ہم نے جواب دیا : جی نہیں ، انہوں نے کہا: یہ ہمارا بھتیجا محمد بن عبداللہ ہے ، اور وہ لڑکا علی بن ابوطالب ہے ، اور وہ عورت خدیجہ بنت خویلد ہے ، اللہ کی قسم ! اس دین کے مطابق روئے زمین پر اللہ کی عبادت کرنے والا اور کوئی نہیں ہے ، صرف یہی تین افراد ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں دو راوی ہیں ، ان میں سے ایک یحیی بن حاتم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور دوسرا راوی بشر بن مہران ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے عفیف کندی کی نقل کردہ روایت اس بارے میں گزر چکی ہے جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں دو راوی ہیں ، ان میں سے ایک یحیی بن حاتم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور دوسرا راوی بشر بن مہران ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے عفیف کندی کی نقل کردہ روایت اس بارے میں گزر چکی ہے جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15268
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ ، فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ " . فَقَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ ، وَآسِيَةُ ابْنَةُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں لگائیں ، آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ یہ کیا ہے ، لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل جنت کی خواتین میں سب سے زیادہ فضیلت والی خدیجہ بنت خویلد ، فاطمہ بنت محمد ، مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہن ہیں جو فرعون کی اہلیہ تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15269
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بِحَسْبِكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ أَرْبَعٌ : فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ الشَّاذَكُونِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تمام خواتین میں تمہارے لئے چار کافی ہیں ( یعنی یہ چار نمایاں حیثیت رکھتی ہیں ) فاطمہ بنت محمد ، خدیجہ بنت خویلد ، مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہن ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15270
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ فُضِّلَتْ خَدِيجَةُ عَلَى نِسَاءِ أُمَّتِي كَمَا فُضِّلَتْ مَرْيَمُ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو يَزِيدَ الْحِمْيَرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خدیجہ کو میری امت کی خواتین پر اسی طرح فضیلت دی گئی ہے جس طرح مریم کو تمام جہانوں کی خواتین پر فضیلت دی گئی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابویزید حمیری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابویزید حمیری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 15271
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيِّدَاتُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ : مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، ثُمَّ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ، ثُمَّ خَدِيجَةُ ، ثُمَّ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت کی خواتین کی سردار مریم بنت عمران ہیں پھر فاطمہ بنت محمد ہیں پھر خدیجہ بنت خویلد ہیں پھر آسیہ ہیں ، جو فرعون کی اہلیہ تھیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15272
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّعَ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دے دوں جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15273
وَعَنْ فَاطِمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيْنَ أَمُّنَا خَدِيجَةُ ؟ قَالَ : " فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ ، لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ ، بَيْنَ مَرْيَمَ وَآسِيَةَ " . قَالَتْ : مِنْ هَذَا الْقَصَبُ ؟ قَالَ : " لَا . بَلْ مِنَ الْقَصَبِ الْمَنْظُومِ بِالدُّرِّ وَاللُّؤْلُؤِ وَالْيَاقُوتِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُهَاجِرِ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْهَا ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَلَا أَظُنْهُ سَمِعَ مِنْهَا ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : ہماری والدہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کہاں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : موتی سے بنے ہوئے کھوکھلے گھر میں ہے ، جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی وہ مریم اور آسیہ کے درمیان ہیں ۔ “ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اس موتی سے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں بلکہ ایسے موتی سے ، جس میں قیمتی پتھر اور موتی اور یاقوت پروئے ہوئے ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مہاجر بن میمون کے حوالے سے خاتون سے نقل کی ہے اور میں مہاجر سے واقف نہیں ہوں ، میرا خیال ہے اس نے اس خاتون سے سماع نہیں کیا ہو گا ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مہاجر بن میمون کے حوالے سے خاتون سے نقل کی ہے اور میں مہاجر سے واقف نہیں ہوں ، میرا خیال ہے اس نے اس خاتون سے سماع نہیں کیا ہو گا ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15274
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ خَدِيجَةَ أَنَّهَا مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْفَرَائِضَ وَالْأَحْكَامَ ؟ قَالَ : " أَبْصَرْتُهَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ " . ¤ وَسُئِلَ عَنْ أَبِي طَالِبٍ : هَلْ نَفَعْتُهُ ؟ قَالَ : " أَخْرَجْتُهُ مِنْ جَهَنَّمَ إِلَى ضَحْضَاحٍ مِنْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَخَاصَّةً فِي أَحَادِيثِ جَابِرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دریافت کیا گیا کیونکہ ان کا انتقال فرائض اور احکام کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہو گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اسے نہر کے کنارے جنت میں موجود کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر میں دیکھا ہے جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جناب ابوطالب کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا آپ نے انہیں کوئی نفع پہنچایا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں انہیں جہنم سے نکال کر اس کے سب سے اوپر والے حصے میں لے کے آیا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں صرف سعید بن مجالد کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے خاص طور پر ان احادیث میں کی گئی ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں صرف سعید بن مجالد کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے خاص طور پر ان احادیث میں کی گئی ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں ۔
حدیث نمبر: 15275
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا : بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ . قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّهَيْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دی تھی جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ زہری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ زہری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15276
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ رِئَابٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِخَدِيجَةَ : إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَتَانِي ، فَقَالَ : بَشِّرْ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن رئاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ کہا: کہ آپ خدیجہ کو کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری سنا دیں جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15277
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ مَعَ خَدِيجَةَ ، إِذْ أَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَقْرِئْ خَدِيجَةَ السَّلَامَ ، وَبَشِّرْهَا فِي الْجَنَّةِ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ ، لَا أَذًى فِيهِ وَلَا نَصَبَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سلام کہہ دیں ، اور جنت میں موجود ایک گھر کی خوشخبری سنا دیں جو کھوکھلے موتی سے بنا ہوا ہو گا اس میں کوئی تکلیف اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15278
وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ لِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : بَشِّرْ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ " . يَعْنِي قَصَبَ اللُّؤْلُؤِ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل نے مجھ سے کہا: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں موجود ایک گھر کی خوشخبری دے دیں جو کھوکھلے موتی سے بنا ہوا ہو گا اور اس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔ “ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد کھوکھلا موتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف محمد بن ابوسمینہ کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف محمد بن ابوسمینہ کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15279
وَعَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ خَدِيجَةَ ، فَقُلْتُ : مَا أَكْثَرَ مَا تُكْثِرُ مِنْ ذِكْرِ خَدِيجَةَ ، وَقَدْ أَخْلَفَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ مِنْ عَجُوزٍ حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ ، وَقَدْ هَلَكَتْ فِي دَهْرٍ ؟ ! فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ مِثْلَهُ قَطُّ وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ رَزَقَهَا مِنِّي مَا لَمْ يَرْزُقْ أَحَدًا مِنْكُنَّ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اعْفُ عَنِّي ، وَاللَّهِ لَا تَسْمَعُنِي أَذْكُرُ خَدِيجَةَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اکثر ذکر کیا کرتے تھے ، میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس سرخ ہونٹوں والی بوڑھی عورت کی جگہ آپ کو دوسری بیویاں دے دی ہیں اور اس عورت کو انتقال کیے ہوئے بھی ایک زمانہ گزر گیا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، میں نے آپ کو اس طرح غصے میں کبھی نہیں دیکھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ سے وہ چیز عطا کی جو تم میں سے کسی کو عطا نہیں کی ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ مجھے معاف کر دیں ، اللہ کی قسم ! آج کے دن بعد آپ مجھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اس حوالے سے ذکر کرتے ہوئے نہیں سنیں گے جو آپ کو ناپسند ہو ۔ “
حدیث نمبر: 15280
وَفِي رِوَايَةٍ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ لَمْ يَكُنْ يَسْأَمُ مِنْ ثَنَاءٍ عَلَيْهَا وَالِاسْتِغْفَارِ ، قَالَ : " وَرُزِقَتْ مِنِّي الْوَلَدَ إِذْ حُرِمْتُنَّهُ مِنِّي " . فَغَدَا عَلَيَّ بِهَا وَرَاحَ شَهْرًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَسَانِيدُهُ حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تھے تو ہمیشہ ان کی تعریف کیا کرتے تھے اور ان کے لئے دعائے مغفرت کیا کرتے تھے آپ یہ فرماتے تھے : ” اسے مجھ سے اولاد نصیب ہوئی تھی جب کہ تم مجھ سے اولاد سے محروم رہی ہو ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس حوالے سے ایک ماہ تک ذکر کرتے رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15281
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَثْنَى فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ ، قَالَتْ : فَغِرْتُ يَوْمًا ، فَقُلْتُ : مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُ حَمْرَاءَ الشِّدْقَيْنِ ! قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا . قَالَ : " أَبْدَلَنِي اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا ؟ ! قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِيَ النَّاسُ ، وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ ، وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ ، وَرَزَقَنِي اللَّهُ أَوْلَادَهَا وَحَرَمَنِي أَوْلَادَ النَّاسِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تھے تو ان کی اچھی طرح سے تعریف کرتے تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ایک دن مجھے غصہ آ گیا ، میں نے کہا: آپ اس سرخ اونٹوں والی خاتون کا کتنا تذکرہ کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے بدلے میں زیادہ بہتر بیویاں عطا کر دی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے اس سے زیادہ بہتر مجھے عطا کی ہیں ؟ وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائی تھی جب لوگوں نے میرا انکار کیا تھا ، اس نے اس وقت میری تصدیق کی تھی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تھا ، اس نے اپنے مال کے ذریعے میرا اس وقت ساتھ دیا تھا جب لوگوں نے مجھے محروم رکھنا چاہا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے ذریعے اولاد عطا کی اور دوسرے لوگوں کے ذریعے اولاد عطا نہیں کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15282
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ خَدِيجَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا جِبْرِيلُ ، هَذِهِ خَدِيجَةُ " . فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : أَقْرِئْهَا مِنَ اللَّهِ السَّلَامَ وَمِنِّي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اسی دوران سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آ گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل ! یہ خدیجہ ہے ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہہ دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15283
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِحِرَاءٍ ، فَقَالَ : هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ جَاءَتْ بِحَيْسٍ فِي غَرْزَتِهَا ، فَقُلْ لَهَا : إِنَّ اللَّهَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ ، فَلَمَّا جَاءَتْ قَالَ لَهَا : " إِنَّ جِبْرِيلَ أَعْلَمَنِي بِكِ وَبِالْحَيْسِ الَّذِي فِي غَرْزَتِكِ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ ، فَقَالَ : اللَّهُ يُقْرِئُهَا السَّلَامُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن کثیر بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرا میں موجود تھے ، انہوں نے کہا: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا حیس ( نامی کھانا ) لے کے آ رہی ہیں جو چمڑے کے برتن میں ہے ، آپ ان سے یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا: ہے ، جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : جبرائیل نے مجھے بتایا اور اس حیس ( نامی کھانے ) کے بارے میں بتایا جو تمہارے چمڑے کے برتن میں ہے ، ایسا تمہارے آنے سے پہلے ہوا اور جبرائیل نے یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سلام کہا: ہے ، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ سلامتی عطا کرنے والا ہے اسی سے سلامتی عطا ہوتی ہے ، اور سیدنا جبرائیل کو بھی سلام ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15284
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَطْعَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ مِنْ عِنَبِ الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کا انگور کھلایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔