حدیث نمبر: 15289
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَّفَنَا وَخَلَّفَ بَنَاتِهِ ، فَلَمَّا اسْتَقَرَّ بِالْمَدِينَةِ ، بَعَثَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ، وَبَعَثَ مَعَهُ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَاهُ ، وَأَعْطَاهُمَا بَعِيرَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ ، أَخَذَهَا مِنْ أَبِي بَكْرٍ ؛ يَشْتَرِيَانِ بِهَا مَا يَحْتَاجَانِ إِلَيْهِ مِنَ الظَّهْرِ ، وَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْأُرَيْقِطِ الدِّئَلِيَّ بِبَعِيرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ ، وَكَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَحْمِلَ مَعَهُ أَهْلَهُ أُمَّ رُومَانَ ، وَأُمَّ أَبِي بَكْرٍ ، وَأَنَا ، وَأَخِي ، وَأَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ امْرَأَةَ الزُّبَيْرِ ، فَخَرَجُوا مُصْطَحِبِينَ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى قَدِيدٍ ، اشْتَرَى زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بِتِلْكَ الْخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ ثَلَاثَةَ أَبْعِرَةٍ ، ثُمَّ دَخَلُوا مَكَّةَ جَمِيعًا ، فَصَادَفُوا طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يُرِيدُ الْهِجْرَةَ ، فَخَرَجْنَا جَمِيعًا ، وَخَرَجَ زَيْدٌ ، وَأَبُو رَافِعٍ بِفَاطِمَةَ ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ ، وَسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، وَحَمَلَ زَيْدٌ أُمَّ أَيْمَنَ وَوَلَدَهَا أَيْمَنَ وَأُسَامَةَ ، وَاصْطَحَبَنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْضِ مِنْ نَمِرٍ نَفَرَ بَعِيرِي ، وَأَنَا فِي مِحَفَّةٍ مَعِي فِيهَا أُمِّي ، فَجَعَلَتْ تَقُولُ : وَابِنْتَاهُ وَاعَرُوسَتَاهُ . حَتَّى إِذَا أُدْرِكَ بَعِيرُنَا وَقَدْ هَبَطَ مِنَ الثَّنِيَّةِ ثَنِيَّةِ هَبْشَا ، فَسَلَّمَ اللَّهُ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، فَنَزَلْتُ فِي عِيَالِ أَبِي بَكْرٍ ، وَنَزَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ يَبْنِي الْمَسْجِدَ ، وَأَبْيَاتُنَا حَوْلَ الْمَسْجِدِ ، فَأَنْزَلَ فِيهَا أَهْلَهُ ، فَمَكَثْنَا أَيَّامًا ، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَبْنِيَ بِأَهْلِكَ ؟ قَالَ : " الصَّدَاقُ " . فَأَعْطَاهُ أَبُو بَكْرٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيْنَا ، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي هَذَا الَّذِي أَنَا فِيهِ ، وَهُوَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ وَدُفِنَ فِيهِ ، وَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ أَحَدَ تِلْكَ الْبُيُوتِ ، وَكَانَ يَكُونُ عِنْدَهَا،[وَكَاَنَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِيَّايَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْجَوَارِي، فَمَا حَدَّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَنِي حَتَّى أَخَذَتْنِي أُمِّي، فَحَبَسَتْنِي فِي الْبَيْتِ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنِّي تَزَوَّجْتُهُ، فَمَا سَأَلْتُهَا حَتَّى كَانَتْ هِيَ الَّتِي أَخْبَرَتْنِي ] . وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو آپ ہمیں اور اپنی صاحبزادیوں کو ( مکہ میں ہی ) چھوڑ گئے ، جب آپ مدینہ منورہ میں مستقل طور پر ٹھہر گئے ( یا آپ نے رہائش کا بندوبست کر لیا ) تو آپ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، آپ نے ان کے ہمراہ اپنے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، آپ نے ان دونوں کو دو اونٹ دیے اور پانچ سو درہم دیے ، آپ نے یہ رقم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لی تھی تاکہ وہ دونوں حضرات اس کے ذریعے ضرورت کے مطابق سواری کے جانور خرید لیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں صاحبان کے ہمراہ عبداللہ بن اریقط دؤیلی کو دو یا شاید تین اونٹوں کے ہمراہ بھیجا ، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ وہ ان صاحب کے ہمراہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کو یعنی سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ کو مجھے ، میری بہن اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کو جو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ، ان سب کو سوار کروا کے بھجوا دے ، یہ لوگ نکلے یہاں تک کہ یہ قدید کے مقام پر پہنچے ، وہاں زید بن حارثہ نے ان پانچ سو درہم کے ذریعے تین اونٹ خریدے ، پھر یہ سب لوگ مکہ میں داخل ہوئے تو ان کی ملاقات سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو ہجرت کے لئے جانا چاہ رہے تھے ، تو ہم سب اکٹھے روانہ ہوئے ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ ، فاطمہ ، ام کلثوم اور سوده بنت زمعہ کو لے کے نکلے ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اُم ایمن رضی اللہ عنہا اور ان کی اولاد ایمن اور اسامہ کو سواری پر سوار کیا ، ہم لوگ بھی روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم لوگ نمر کے علاقے بیض میں تھے تو وہاں میرا اونٹ سرکش ہو گیا ، میں اپنے ہودج میں تھی ، میرے ساتھ میری والدہ تھیں ، میری والدہ نے یہ کہنا شروع کیا ، ہائے میری بیٹی ہائے میری دلہن ، یہاں تک کہ ہمارا اونٹ جب ٹھیک ہوا تو اس وقت ہم ہرشی کی گھاٹی سے اتر رہے تھے ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں سلامت رکھا ، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آ گئے ، میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رشتے داروں کے ہاں ٹھہری اور وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مسجد نبوی کی تعمیر کروا رہے تھے ، ہمارے گھر مسجد کے اردگرد تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو وہاں رہائشی جگہ دی پھر ہم کچھ دن وہاں ٹھہرے رہے ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے آپ اپنی اہلیہ کی رخصتی کیوں نہیں کرواتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مہر ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بارہ اوقیہ اور ایک نش ( مخصوص پیمانہ ) چاندی دی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہمیں بھجوائی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری رخصتی کروائی اور مجھے میرے اس گھر میں لے آئے جہاں میں موجود ہوں اور اسی گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور اس میں آپ کو دفن کیا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اس گھر میں لے کے گئے تھے جو ان کے پاس رہا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15289
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (24/23)»