مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - باب: اُم المومنین سیدہ عاشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شادی کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ الْأَوْقَصِ - امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، وَذَلِكَ بِمَكَّةَ - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَزَوَّجُ ؟ قَالَ : " مَنْ ؟ " . قَالَتْ : إِنْ شِئْتَ بِكْرًا ، وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا ؟ قَالَ : " فَمَنِ الْبِكْرُ ؟ " . قَالَتْ : ابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْكَ : عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : " فَمَنِ الثَّيِّبُ ؟ " . قَالَتْ : سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ ، آمَنَتْ بِكَ ، وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا أَنْتَ عَلَيْهِ . قَالَ : " فَاذْهَبِي فَاذْكُرِيهَا عَلَيَّ " . فَجَاءَتْ ، فَدَخَلَتْ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ فَوَجَدَتْ أُمَّ رُومَانَ أُمَّ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : يَا أُمَّ رُومَانَ ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ . قَالَتْ : وَدِدْتُ ، انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ ، فَإِنَّهُ آتٍ . فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ ! أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : هَلْ تَصْلُحُ لَهُ ؟ إِنَّمَا هِيَ بِنْتُ أَخِيهِ ! فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعِي إِلَيْهِ ، فَقُولِي لَهُ : أَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَنَا أَخُوكَ ، وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي " . فَأَتَتْ أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَجَاءَ فَأَنْكَحَهُ [وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ] . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خولہ بنت حکیم نے عرض کی : یہ مکہ کی بات ہے ، یا رسول اللہ ! کیا آپ شادی نہیں کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس کے ساتھ ؟ اس خاتون نے کہا: اگر آپ چاہیں تو کنواری کے ساتھ کر لیں اور اگر آپ چاہیں ، تو ثیبہ خاتون کے ساتھ کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کنواری لڑکی کون ہے ؟ اس خاتون نے کہا: اللہ کی مخلوق میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب فرد کی صاحبزادی عائشہ بنت ابوبکر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ثیبہ خاتون کون ہیں ، تو خولہ نے جواب دیا : سودہ بنت زمعہ جو آپ پر ایمان لا چکی ہیں ، انہوں نے آپ کی پیروی بھی کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور ان کے ہاں میرے حوالے سے ذکر کرو ، وہ خاتون گئیں وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئیں ، وہاں انہوں نے سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کو پایا ، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں ، اس خاتون نے کہا: اے ام رومان ! اللہ تعالیٰ نے تم پر بھلائی اور برکت کیسے داخل کی ہے ، اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے شادی کا پیغام دوں ، تو سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا: میری یہ خواہش ہے کہ آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتظار کر لیں ، وہ آنے والے ہیں ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو اس خاتون نے کہا: اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھلائی اور برکت نصیب کی ہے ، اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے عائشہ کے لئے شادی کا پیغام دوں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا یہ ٹھیک ہو گا ؟ یہ تو ان کی بھتیجی بنتی ہے ، وہ خاتون واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے یہ کہو کہ تم میرے اسلام میں بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں ، لیکن تمہاری بیٹی میرے لئے درست ہو سکتی ہے ( یعنی اس کے ساتھ شادی ہو سکتی ہے ) وہ خاتون سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ہاں بلوا لو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی شادی کروا دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔