عَنْ عَامِرٍ - يَعْنِي الشَّعْبِيَّ - قَالَ : قِيلَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : مَتَى أَصَبْتَ الدَّعْوَةَ ؟ قَالَ : يَوْمَ بَدْرٍ ، كُنْتُ أَرْمِي بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَضَعُ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ، ثُمَّ أَقُولُ : اللَّهُمَّ زَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ ، وَأَرْعِبْ قُلُوبَهُمْ ، وَافْعَلْ بِهِمْ وَافْعَلْ . فَيَقُولُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ : أَنَّ السِّهَامَ الَّتِي رَمَى بِهَا يَوْمَئِذٍ أَلْفُ سَهْمٍ . ¤
محمد محی الدین
عامر شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : آپ کی دعا کب قبول ہوئی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جنگ بدر کے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تیر اندازی کر رہا تھا میں کمان میں تیر رکھتا تھا اور پھر یہ کہتا تھا ۔ اے اللہ ! ان کے قدموں کو ہلا دے ، اور ان کے دلوں میں رعب قائم کر دے ، اور یہ کر دے اور وہ کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے : اے اللہ ! سعد کی دعا قبول فرما لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ اس سے پہلے واقعہ احد میں یہ بات گزر چکی ہے سیدنا سعد رضی الللہ عنہ نے اس دن جو تیر مارے تھے وہ ایک ہزار تیر تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ اس سے پہلے واقعہ احد میں یہ بات گزر چکی ہے سیدنا سعد رضی الللہ عنہ نے اس دن جو تیر مارے تھے وہ ایک ہزار تیر تھے ۔
وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَدْعُو ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لَهُ إِذَا دَعَاكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سنا میں دعا کر رہا تھا ، تو آپ نے فرمایا : ” اے اللہ ! جب یہ تجھ سے دعا کرے تو اس کی دعا کو مستجاب فرمانا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ آگے چل کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ایک حدیث آئے گی جو اس کے بعد والے باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ آگے چل کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ایک حدیث آئے گی جو اس کے بعد والے باب میں آئے گی ۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : خَرَجَتْ جَارِيَةٌ لِسَعْدٍ - يُقَالُ لَهَا : زِيرَا - وَعَلَيْهَا قَمِيصٌ حَرِيرٌ ، فَكَشَفَتْهَا الرِّيحُ ، فَشَدَّ عَلَيْهَا عُمَرُ بِالدِّرَّةِ ، وَجَاءَ سَعْدٌ لِيَمْنَعَهُ فَتَنَاوَلَهُ بِالدِّرَّةِ ، فَذَهَبَ سَعْدٌ يَدْعُو عَلَى عُمَرَ ، فَنَاوَلَهُ عُمَرُ الدِّرَّةَ ، وَقَالَ : اقْتَصَّ . فَعَفَا عَنْ عُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی کنیز نکلی اس کا نام زیرا تھا ، اس کنیز کے جسم پر ریشم کی قمیص تھی ، ہوا کی وجہ سے اس کی قمیض ہٹ گئی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے درہ مارا ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ انہیں روکنے کے لئے آئے ، تو درہ انہیں بھی لگ گیا ، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف دعا کرنے لگے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے درہ انہیں پکڑا دیا اور فرمایا : آپ بدلہ لے لیں تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو معاف کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ : كَانَ لِابْنِ مَسْعُودٍ عَلَى سَعْدٍ مَالٌ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ : أَدِّ الْمَالَ الَّذِي قِبَلَكَ ، فَقَالَ لَهُ : وَاللَّهِ [ إِنِّي ] لَأُرَاكَ لَاقٍ مِنِّي شَرًّا ، هَلْ أَنْتَ إِلَّا ابْنُ مَسْعُودٍ وَعَبْدٌ مِنْ [ بَنِي ] هُذَيْلٍ ؟ فَقَالَ : أَجَلْ وَاللَّهِ إِنِّي لَابْنُ مَسْعُودٍ وَإِنَّكَ لَابْنُ حَمْنَةَ ، فَقَالَ لَهُمَا هَاشِمُ بْنُ عُتْبَةَ : إِنَّكُمَا صَاحِبَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْكُمَا ، فَطَرَحَ سَعْدٌ عُودًا كَانَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَقَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ : قُلْ قَوْلًا وَلَا تَلْعَنْ ، فَسَكَتَ . ثُمَّ قَالَ سَعْدٌ : [ أَمَا وَاللَّهِ ] لَوْلَا اتِّقَاءُ اللَّهِ ؛ لَدَعَوْتُ عَلَيْكَ دَعْوَةً مَا تُخْطِئُكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَسَدِ بْنِ مُوسَى ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کچھ مال لینا تھا ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ وہ مال ادا کر دیں جو آپ کے ذمہ ہے ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہارا ستیاناس ہو میرا مال اور تمہارا مال ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ مال ادا کریں جو آپ کے ذمہ لازم ہے ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! تمہارے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تمہیں میری طرف سے کوئی برائی لاحق ہو گی تم ابن مسعود ہی ہو نا ، جو بنو ہذیل کے ایک غلام تھے ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں میں ابن مسعود ہی ہوں اور آپ حمنہ کے صاحبزادے ہیں ، تو ہاشم بن عتبہ نے ان دونوں صاحبان سے کہا: آپ دونوں اللہ کے رسول کے صحابی ہیں ، اور لوگ آپ دونوں کی طرف دیکھ رہے ہیں ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی رکھ دی ، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کو بلند کیا اور کہا: اے اللہ ! اے آسمانوں کے پروردگار ! تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ جو مرضی بات کہہ دیں لیکن لعنت نہ کیجئے گا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے ، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ کا ڈر نہ ہوتا تو میں نے تمہارے خلاف ایسی دعا کرنی تھی جو تمہیں لاحق ہو جانی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : بَيْنَمَا سَعْدٌ يَمْشِي إِذْ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَشْتُمُ عَلِيًّا ، وَطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرَ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : إِنَّكَ تَشْتُمُ أَقْوَامًا قَدْ سَبَقَ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مَا سَبَقَ ، وَاللَّهِ لَتَكُفَّنَّ عَنْ شَتْمِهِمْ أَوْ لَأَدْعُوَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْكَ . قَالَ : يُخَوِّفُنِي كَأَنَّهُ نَبِيٌّ ! ! فَقَالَ سَعْدٌ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ يَشْتُمُ أَقْوَامًا قَدْ سَبَقَ لَهُمْ مِنْكَ مَا سَبَقَ فَاجْعَلْهُ الْيَوْمَ نَكَالًا . فَجَاءَتْ بُخْتِيَّةٌ ، فَأَفْرَجَ النَّاسُ لَهَا فَتَخَبَّطَتْهُ ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَتَّبِعُونَ سَعْدًا يَقُولُونَ : اسْتَجَابَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن سعد بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے جا رہے تھے ۔ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو برا کہہ رہا تھا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم ایسے لوگوں کو برا کہہ رہے ہو جن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے ( فضیلت آ چکی ہے ) اللہ کی قسم ! یا تو تم انہیں برا کہنے سے باز آ جاؤ گے یا پھر میں تمہارے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا ، اس نے کہا: یہ مجھے یوں ڈرا رہے ہیں جیسے یہ نبی ہوتے ہیں ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! اگر یہ شخص ان لوگوں کو برا کہے جن کے لئے تیری طرف سے پہلے ہی ( بھلائی آ چکی ہے ) تو تُو آج ہی اسے سزا دے دینا ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران ایک بختی اونٹنی آئی ، لوگوں میں اس کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی ، اس اونٹنی نے اس شخص کو کچل دیا ۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ تیزی سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پیچھے گئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اے ابواسحاق ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کر لی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ : قَالَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ : ¤ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ نَصْرَهُ وَسَعْدٌ بِبَابِ الْقَادِسِيَّةِ مُعْصَمُ فَأُبْنَا وَقَدْ آمَتْ نِسَاءٌ كَثِيرَةٌ ¤ وَنِسْوَةُ سَعْدٍ لَيْسَ فِيهِنَّ أَيِّمُ . ¤ فَبَلَغَ سَعْدًا قَوْلُهُ فَقَالَ : اللَّهُمَّ [ اقْطَعْ ] عَنِّي لِسَانَهُ وَيَدَهُ ، فَجَاءَتْ نُشَّابَةٌ فَأَصَابَتْ فَاهُ فَخَرِسَ ، ثُمَّ قُطِعَتْ يَدُهُ فِي الْقِتَالِ ، فَقَالَ سَعْدٌ : احْمِلُونِي عَلَى بَابٍ ، فَخُرِجَ بِهِ مَحْمُولًا ، ثُمَّ كُشِفَ عَنْ ظَهْرِهِ ، وَفِيهِ قُرُوحٌ ، فَأَخْبَرَ النَّاسَ بِعُذْرِهِ فَعَذَرُوهُ ، وَكَانَ سَعْدٌ لَا يَحِينُ . ¤
محمد محی الدین
قبیصہ بن جابر بیان کرتے ہیں : جنگ قادسیہ کے دن ہمارے چچا زاد نے ہم سے کہا: ” کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد نازل کر دی ، اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ قادسیہ کے دروازے کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے ، جب ہم نے جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ بہت سی خواتین بیوہ ہو گئی ہیں لیکن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی خواتین میں سے کوئی بیوہ نہیں ہوئی ہے ۔ “ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو اس کی بات کا پتہ چلا تو انہوں نے فرمایا : اے اللہ ! اس کی زبان اور ہاتھ کو مجھ سے کاٹ دے ، تو پھر ایک تیر آیا اور اس شخص کے منہ پر لگا ، تو وہ گونگا ہو گیا ، پھر جنگ کے دوران اس کا ہاتھ بھی کٹ گیا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اٹھا کر دروازے پر لے جاؤ ! انہیں اٹھا کر باہر لایا گیا ، ان کی پشت سے کپڑا ہٹایا گیا ، تو وہاں بہت سے زخموں کے نشان تھے ، انہوں نے لوگوں کو اپنے عذر کے بارے میں بتایا تو لوگوں نے ان کے عذر کو قبول کیا ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بزدل نہیں تھے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : يُقَاتِلُ حَتَّى يُنْزِلَ اللَّهُ نَصْرَهُ . وَقَالَ : وَقُطِعَتْ يَدُهُ وَقُتِلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ؛ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ جنگ کرتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد نازل کی ۔ اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اس شخص کا ہاتھ کٹ گیا اور وہ شخص مارا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔