حدیث نمبر: 14858
عَنْ سَعْدٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسَتَخْبِرُ لَهُ خَبَرَ قَوْمٍ ، فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَسْعَى حَتَّى صِرْتُ إِلَى الْقَوْمِ ، ثُمَّ جِئْتُ وَأَنَا أَمْشِي عَلَى هَيْئَتِي حَتَّى صِرْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَنِي ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " ذَهَبْتَ شَدِيدًا ، ثُمَّ جِئْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ ؟ " . - أَوْ كَمَا قَالَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَسْعَى ، فَيَظُنَّ بِيَ الْقَوْمُ أَنِّي قَدْ فَرَقْتُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ سَعْدًا لَمُجَرِّبٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تاکہ میں دشمن کے بارے میں خبر معلوم کر کے آؤں ، میں دوڑتا ہوا گیا یہاں تک کہ لوگوں کے پاس پہنچ گیا پھر جب میں واپس آیا تو عام رفتار سے چلتا ہوا آیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے صورت حال دریافت کی ، میں نے آپ کو بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم گئے تھے ، تو بھاگ کر گئے تھے ، اور جب واپس آئے تو عام رفتار سے آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے یہ بات بری لگی کہ میں دوڑ کر آؤں اور دشمن میرے بارے میں یہ گمان کرے کہ شاید یہ بھاگ کر جا رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سعد ایک تجربہ کار آدمی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14859
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ رَمَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ ؛ رَمَى بِهِ سَعْدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول کے ساتھ سب سے پہلا تیر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پھینکا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14860
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ : سَعْدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس شخص نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلا تیر پھینکا وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علاء بن عمر حنفی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علاء بن عمر حنفی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14861
وَعَنْ سَعْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَمَعَ لَهُ أَبَوَيْهِ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَحْرَقَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " . قَالَ : فَنَزَعْتُ بِسَهْمٍ لَيْسَ فِيهِ نَصْلٌ ، فَأَصَبْتُ جَنْبَيْهِ ، فَوَقَعَ وَانْكَشَفَتْ عَوْرَتُهُ ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى نَوَاجِذِهِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَسَدِ بْنِ مُوسَى وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنے ماں باپ کو جمع کیا تھا ( یعنی یہ فرمایا تھا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ) مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مسلمانوں کو آگ لگائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سعد تم تیر پھینکو ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ، تو میں نے ایک تیرا الگ کیا جس پر پھل ( لوہے کا ٹکڑا ) نہیں تھا ، وہ میں نے اس شخص کے پہلوؤں پر مارا تو وہ شخص گر گیا اور اس کی شرمگاہ سے کپڑا ہٹ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، یہاں تک کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آ گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14862
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي : ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : ¤ كَانَ سَعْدٌ يَوْمَ بَدْرٍ يُقَاتِلُ قِتَالَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ الصَّيْرَفِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن سیدنا رضی اللہ عنہ اللہ نے گھڑ سوار اور پیادہ ( دونوں طرح سے ) جنگ میں حصہ لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابراہیم بن یوسف صیرفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابراہیم بن یوسف صیرفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14863
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ مِنْ هَذَا الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " فَدَخَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس دروازے سے آنے والا پہلا فرد جنتی ہو گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے آئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14864
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " فَدَخَلَ سَعْدٌ ، قَالَ ذَلِكَ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، كُلُّ ذَلِكَ يَدْخُلُ سَعْدٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَقَدْ ضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے سامنے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آئے گا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اندر آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دن ارشاد فرمائی اور ہر مرتبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ہی آئے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قیس رقاشی ہے جس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قیس رقاشی ہے جس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14865
وَعَنْ سَعْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ طَعَامٌ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ سُقْ إِلَى هَذَا الطَّعَامِ عَبْدًا يُحِبُّهُ وَيُحِبُّكَ " . قَالَ : فَطَلَعَ - يَعْنِي نَفْسَهُ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا موجود تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ” اے اللہ ! اس کھانے کی طرف تو اس بندے کو لے آ ! جس سے تو محبت کرتا ہو اور وہ تجھ سے محبت کرتا ہو ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو وہ آ گئے ، یعنی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خود آ گئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14866
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : " دُونَكَ لُحُومَ الْقَوْمِ " فَكَانَ سَعْدٌ يَضَعُ سَهْمُهُ فِي كَبَدِ قَوْسِهِ فَيَقُولُ : اللَّهُمَّ سَهْمُكَ ، وَفِي سَبِيلِكَ اللَّهُمَّ انْصُرْ رَسُولَكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ ، وَقَدِ اعْتَضَدَ حَدِيثُهُ بِالْحَدِيثَيْنِ اللَّذَيْنِ تَقَدَّمَا فِي بَابِ إِجَابَةِ دُعَائِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم دشمن کے گوشت سنبھالو ( یعنی ان پر حملہ کرو ) تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی کمان میں تیر رکھا اور یہ کہا: اے اللہ ! یہ تیرا تیر ہے ، اور تیری راہ میں ہے ، اے اللہ ! تو اپنے رسول کی مدد کرنا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! جب سعد تجھ سے دعا کرے تو اس کی دعا مستجاب فرما ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ مدلس اور ثقہ ہے ، یہ حدیث ان دو حدیثوں کے حوالے سے مضبوط ہو جاتی ہے جو اس سے پہلے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے مستجاب ہونے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ مدلس اور ثقہ ہے ، یہ حدیث ان دو حدیثوں کے حوالے سے مضبوط ہو جاتی ہے جو اس سے پہلے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے مستجاب ہونے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 14867
وَعَنِ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَأَخَذَتْنِي وَحْشَةٌ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكِ ؟ " فَقُلْتُ : إِنِّي فِي هَذَا الْمَكَانِ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ فَأَخَافُ عَلَيْكَ . فَقَالَ : " كَلَّا ؛ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَبْعَثُ لَنَا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَكْلَؤُنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا " قَالَتْ : فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ رَأَيْتُ سَوَادًا قَدْ أَقْبَلَ نَحْوَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللًَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هَذَا ؟ " فَقَالَ : أَنَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ، جِئْتُ أَكْلَؤُكَ بَقِيَّةَ لَيْلَتِكَ هَذِهِ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فَنَامَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : أَبُو جَعْفَرٍ الْأَشْجَعِيُّ : لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے مجھے رات کے وقت وحشت محسوس ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : ہم اس جگہ پر ایک تاریک رات میں موجود ہیں ، مجھے آپ کے حوالے سے اندیشہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا ہرگز نہیں ہو گا اللہ تعالیٰ ہمارے لئے ایک شخص کو بھیج دے گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے وہ باقی کی رات ہماری پہریداری کرتا رہے گا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران میں نے کسی شخص کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون ہے ؟ تو اس نے کہا: میں سعد بن مالک ہوں ، میں اس لئے آیا ہوں تاکہ باقی کی رات آپ کی پہریداری کرتا رہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر رکھا اور آپ سو گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجعفر اشجعی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجعفر اشجعی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14868
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَدْرًا وَمَا لِي غَيْرُ شَعْرَةٍ وَاحِدَةٍ ، ثُمَّ أَكْثَرَ اللَّهُ لِي مِنَ اللِّحَى بَعْدُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : وَقَوْلُهُ " وَمَا لِي غَيْرُ شَعْرَةٍ " يَعْنِي : مَا لِي إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ " ثُمَّ أَكْثَرَ اللَّهُ لِي مِنَ اللِّحَى " يَعْنِي : مِنَ الْوَلَدِ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تو اس وقت میرا ( داڑھی کا ) صرف ایک بال تھا پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے میری داڑھی کے بال زیادہ کر دیے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ یہ فرماتے ہیں : ان کا یہ کہنا ” میرا صرف ایک بال تھا “ اس سے مراد یہ ہے کہ میری صرف ایک بیٹی تھی اور ان کا یہ کہنا کہ ” پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے میری داڑھی کے بال زیادہ کر دیے “ اس سے مراد یہ ہے کہ میری اولاد زیادہ ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ یہ فرماتے ہیں : ان کا یہ کہنا ” میرا صرف ایک بال تھا “ اس سے مراد یہ ہے کہ میری صرف ایک بیٹی تھی اور ان کا یہ کہنا کہ ” پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے میری داڑھی کے بال زیادہ کر دیے “ اس سے مراد یہ ہے کہ میری اولاد زیادہ ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14869
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كَانَ سَعْدٌ آخِرَ الْمُهَاجِرِينَ وَفَاةً رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ مہاجرین میں سے انتقال کرنے والے آخری فرد ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14870
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : تُوُفِيَّ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ ، وَمَاتَ عَلَى عَشَرَةِ أَمْيَالٍ مِنْ الْمَدِينَةِ ، وَحُمِلَ عَلَى رِقَابِ الرِّجَالِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَكَانَ مَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ الْوَالِيَ عَلَيْهَا ، وَأَسْلَمَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعَ عَشْرَةَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد بن حنبل بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا انتقال تراسی برس کی عمر میں ہوا تھا وہ مدینہ منورہ سے دس میل کے فاصلے پر انتقال کر گئے تھے اور ان کی میت کو کندھوں پر اٹھا کر مدینہ منورہ لایا گیا تھا ان دنوں مروان مدینہ منورہ کا گورنر تھا ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سترہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14871
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ : تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ زَمَنَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ حِجَّتِهِ الْأُولَى ، وَهُو ابْنُ ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرُوِيَ نَحْوُهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ان کے پہلے حج کرنے کے بعد ہوا تھا اس وقت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی عمر تراسی برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں انہوں نے اس کی مانند روایت یحیی بن بکیر کے حوالے سے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں انہوں نے اس کی مانند روایت یحیی بن بکیر کے حوالے سے بھی نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14872
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : مَاتَ سَعْدٌ وَمَرْوَانُ وَالِي الْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَمَاتَ سَنَةَ خَمْسَةٍ وَخَمْسِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو مروان اس وقت مدینہ منورہ کا گورنر تھا اس نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا انتقال پچپن ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14873
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : مَاتَ سَعْدٌ بِالْعَقِيقِ فِي قَصْرِهِ عَلَى عَشَرَةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ، وَحُمِلَ عَلَى رِقَابِ الرِّجَالِ إِلَى الْمَدِينَةِ . ¤ وَيُقَالُ : تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ بِضْعٍ وَسَبْعِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اللہ کا انتقال عقیق کے مقام پر ان کے گھر میں ہوا تھا ، جو مدینہ منورہ سے دس میل کے فاصلے پر تھا اور ان کی میت کو لوگ کندھوں پر اٹھا کر مدینہ منورہ لائے تھے ۔ یہ بات کہی جاتی ہے کہ جس وقت ان کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔