حدیث نمبر: 14856
وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ : قَالَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ : ¤ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ نَصْرَهُ وَسَعْدٌ بِبَابِ الْقَادِسِيَّةِ مُعْصَمُ فَأُبْنَا وَقَدْ آمَتْ نِسَاءٌ كَثِيرَةٌ ¤ وَنِسْوَةُ سَعْدٍ لَيْسَ فِيهِنَّ أَيِّمُ . ¤ فَبَلَغَ سَعْدًا قَوْلُهُ فَقَالَ : اللَّهُمَّ [ اقْطَعْ ] عَنِّي لِسَانَهُ وَيَدَهُ ، فَجَاءَتْ نُشَّابَةٌ فَأَصَابَتْ فَاهُ فَخَرِسَ ، ثُمَّ قُطِعَتْ يَدُهُ فِي الْقِتَالِ ، فَقَالَ سَعْدٌ : احْمِلُونِي عَلَى بَابٍ ، فَخُرِجَ بِهِ مَحْمُولًا ، ثُمَّ كُشِفَ عَنْ ظَهْرِهِ ، وَفِيهِ قُرُوحٌ ، فَأَخْبَرَ النَّاسَ بِعُذْرِهِ فَعَذَرُوهُ ، وَكَانَ سَعْدٌ لَا يَحِينُ . ¤
محمد محی الدین

قبیصہ بن جابر بیان کرتے ہیں : جنگ قادسیہ کے دن ہمارے چچا زاد نے ہم سے کہا: ” کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد نازل کر دی ، اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ قادسیہ کے دروازے کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے ، جب ہم نے جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ بہت سی خواتین بیوہ ہو گئی ہیں لیکن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی خواتین میں سے کوئی بیوہ نہیں ہوئی ہے ۔ “ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو اس کی بات کا پتہ چلا تو انہوں نے فرمایا : اے اللہ ! اس کی زبان اور ہاتھ کو مجھ سے کاٹ دے ، تو پھر ایک تیر آیا اور اس شخص کے منہ پر لگا ، تو وہ گونگا ہو گیا ، پھر جنگ کے دوران اس کا ہاتھ بھی کٹ گیا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اٹھا کر دروازے پر لے جاؤ ! انہیں اٹھا کر باہر لایا گیا ، ان کی پشت سے کپڑا ہٹایا گیا ، تو وہاں بہت سے زخموں کے نشان تھے ، انہوں نے لوگوں کو اپنے عذر کے بارے میں بتایا تو لوگوں نے ان کے عذر کو قبول کیا ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بزدل نہیں تھے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14856
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (311)»