حدیث نمبر: 14854
وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ : كَانَ لِابْنِ مَسْعُودٍ عَلَى سَعْدٍ مَالٌ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ : أَدِّ الْمَالَ الَّذِي قِبَلَكَ ، فَقَالَ لَهُ : وَاللَّهِ [ إِنِّي ] لَأُرَاكَ لَاقٍ مِنِّي شَرًّا ، هَلْ أَنْتَ إِلَّا ابْنُ مَسْعُودٍ وَعَبْدٌ مِنْ [ بَنِي ] هُذَيْلٍ ؟ فَقَالَ : أَجَلْ وَاللَّهِ إِنِّي لَابْنُ مَسْعُودٍ وَإِنَّكَ لَابْنُ حَمْنَةَ ، فَقَالَ لَهُمَا هَاشِمُ بْنُ عُتْبَةَ : إِنَّكُمَا صَاحِبَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْكُمَا ، فَطَرَحَ سَعْدٌ عُودًا كَانَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَقَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ : قُلْ قَوْلًا وَلَا تَلْعَنْ ، فَسَكَتَ . ثُمَّ قَالَ سَعْدٌ : [ أَمَا وَاللَّهِ ] لَوْلَا اتِّقَاءُ اللَّهِ ؛ لَدَعَوْتُ عَلَيْكَ دَعْوَةً مَا تُخْطِئُكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَسَدِ بْنِ مُوسَى ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کچھ مال لینا تھا ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ وہ مال ادا کر دیں جو آپ کے ذمہ ہے ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہارا ستیاناس ہو میرا مال اور تمہارا مال ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ مال ادا کریں جو آپ کے ذمہ لازم ہے ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! تمہارے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تمہیں میری طرف سے کوئی برائی لاحق ہو گی تم ابن مسعود ہی ہو نا ، جو بنو ہذیل کے ایک غلام تھے ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں میں ابن مسعود ہی ہوں اور آپ حمنہ کے صاحبزادے ہیں ، تو ہاشم بن عتبہ نے ان دونوں صاحبان سے کہا: آپ دونوں اللہ کے رسول کے صحابی ہیں ، اور لوگ آپ دونوں کی طرف دیکھ رہے ہیں ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی رکھ دی ، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کو بلند کیا اور کہا: اے اللہ ! اے آسمانوں کے پروردگار ! تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ جو مرضی بات کہہ دیں لیکن لعنت نہ کیجئے گا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے ، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ کا ڈر نہ ہوتا تو میں نے تمہارے خلاف ایسی دعا کرنی تھی جو تمہیں لاحق ہو جانی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14854
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (306)»