حدیث نمبر: 14855
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : بَيْنَمَا سَعْدٌ يَمْشِي إِذْ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَشْتُمُ عَلِيًّا ، وَطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرَ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : إِنَّكَ تَشْتُمُ أَقْوَامًا قَدْ سَبَقَ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مَا سَبَقَ ، وَاللَّهِ لَتَكُفَّنَّ عَنْ شَتْمِهِمْ أَوْ لَأَدْعُوَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْكَ . قَالَ : يُخَوِّفُنِي كَأَنَّهُ نَبِيٌّ ! ! فَقَالَ سَعْدٌ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ يَشْتُمُ أَقْوَامًا قَدْ سَبَقَ لَهُمْ مِنْكَ مَا سَبَقَ فَاجْعَلْهُ الْيَوْمَ نَكَالًا . فَجَاءَتْ بُخْتِيَّةٌ ، فَأَفْرَجَ النَّاسُ لَهَا فَتَخَبَّطَتْهُ ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَتَّبِعُونَ سَعْدًا يَقُولُونَ : اسْتَجَابَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عامر بن سعد بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے جا رہے تھے ۔ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو برا کہہ رہا تھا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم ایسے لوگوں کو برا کہہ رہے ہو جن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے ( فضیلت آ چکی ہے ) اللہ کی قسم ! یا تو تم انہیں برا کہنے سے باز آ جاؤ گے یا پھر میں تمہارے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا ، اس نے کہا: یہ مجھے یوں ڈرا رہے ہیں جیسے یہ نبی ہوتے ہیں ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! اگر یہ شخص ان لوگوں کو برا کہے جن کے لئے تیری طرف سے پہلے ہی ( بھلائی آ چکی ہے ) تو تُو آج ہی اسے سزا دے دینا ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران ایک بختی اونٹنی آئی ، لوگوں میں اس کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی ، اس اونٹنی نے اس شخص کو کچل دیا ۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ تیزی سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پیچھے گئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اے ابواسحاق ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کر لی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14855
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (307)»