کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَوْ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ " . فَجَعَلَ اللَّهُ دَعْوَةَ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَبَنَى عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ ، وَهَدَمَ بِهِ الْأَوْثَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَالَ : " أَيِّدِ الْإِسْلَامَ " . ¤ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو عمر بن خطاب یا ابوجہل بن ہشام کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما ۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول کیا اور ان کے ذریعے اسلام کو مضبوط کیا اور بتوں کو منہدم کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” اسلام کی تائید فرما ۔ “ معجم کبیر کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10314)»
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اشْدُدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے اللہ ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو مضبوط کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14405
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا عَشِيَّةَ الْخَمِيسِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَوْ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ " . فَأَصْبَحَ عُمَرُ يَوْمَ الْجُمْعَةِ ، فَأَسْلَمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعرات کی شام دعا کرتے ہوئے یہ کہا: ” اے اللہ ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما ۔ “ تو اگلے دن جمعہ کے دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عثمان بصری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14406
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1881)»
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : خَرَجْتُ أَبْغِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ أُسْلِمَ ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ ، فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْحَاقَّةِ ، فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مِنْ تَأْلِيفِ الْقُرْآنِ . قَالَ : فَقُلْتُ : هَذَا وَاللَّهِ شَاعِرٌ كَمَا قَالَتْ قُرَيْشٌ . قَالَ : فَقَرَأَ : ( إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ ) قُلْتُ : كَاهِنٌ . قَالَ : ( وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) إِلَى آخِرِ السُّورَةِ . قَالَ : فَوَقَعَ الْإِسْلَامُ مِنْ قَلْبِي كُلَّ مَوْقِعٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ شُرَيْحَ بْنَ عُبَيْدٍ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اسلام قبول کرنے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا ، آپ مجھ سے پہلے مسجد میں پہنچے ہوئے تھے ، میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا ، آپ نے سورت حاقہ پڑھنی شروع کی ، تو قرآن کے نظم کے حوالے سے میں بہت حیران ہوا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے سوچا اللہ کی قسم ! یہ صاحب شاعر ہیں ، جس طرح قریش یہ بات کہتے ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” یہ معزز رسول کا ( نقل کیا ہوا ) کلام ہے ، یہ شاعر کا کلام نہیں ہے ( مگر ) تم کم ہی یقین رکھتے ہو ۔ “ میں نے سوچا کہ یہ کاہن ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” یہ کسی کاہن کا کلام نہیں ہے ( مگر ) تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو اس وقت اسلام مکمل طور پر میرے دل میں گھر کر گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ شریح بن عبید نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14407
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (107)»
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ " . ¤ وَقَدْ ضَرَبَ أُخْتَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَهِيَ تَقْرَأُ : ( اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ) حَتَّى ظَنَّ أَنَّهُ قَتَلَهَا ، ثُمَّ قَامَ فِي السَّحَرِ ، فَسَمِعَ صَوْتَهَا تَقْرَأُ : ( اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ) فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا هَذَا بِشِعْرٍ وَلَا هَمْهَمَةٍ ، فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ ، فَدَفَعَ الْبَابَ ، فَقَالَ بِلَالٌ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . فَقَالَ : حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ بِلَالٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عُمَرُ بِالْبَابِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِعُمَرَ خَيْرًا يُدْخِلْهُ فِي الدِّينِ " . فَقَالَ لِبِلَالٍ : " افْتَحْ " . وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ بِضَبْعَيْهِ وَهَزَّهُ ، وَقَالَ : " مَا الَّذِي تُرِيدُ ؟ وَمَا الَّذِي جِئْتَ ؟ " . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اعْرِضْ عَلَيَّ الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ . فَقَالَ : " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . فَأَسْلَمَ عُمَرُ مَكَانَهُ وَقَالَ : اخْرُجْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) رات کے ابتدائی حصے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کی پٹائی کی تھی ، جو یہ آیت پڑھ رہی تھیں : ” تم اپنے پروردگار کے اسم کے ہمراہ پڑھو جس نے پیدا کیا ہے ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی اتنی پٹائی کی کہ انہیں یہ لگا کہ شاید وہ اس خاتون کو قتل کر دیں گے ، پھر وہ صبح کے وقت اٹھے تو انہوں نے اس خاتون کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : ” تم اپنے پروردگار کے اسم کے ہمراہ پڑھو جس نے پیدا کیا ہے ۔ “ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ نہ تو شعر ہے ، اور نہ ہی ہمہمہ ( یعنی نغمہ ) ہے ، پھر وہ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے پر پایا ، انہوں نے دروازے پر دستک دی ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عمر بن خطاب ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: پہلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دروازے پر عمر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے عمر کے بارے میں اگر بھلائی کا ارادہ کر لیا ہے ، تو وہ اسے دین میں داخل کروا دے گا ، آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : دروازہ کھول دو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دونوں پہلوؤں کو پکڑ کر انہیں ہلایا اور بولے : تم کیا چاہتے ہو اور کس لئے آئے ہو ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ میرے سامنے وہ چیز بیان کیجئے جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی جگہ اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم چلے جاؤ ( یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا میں چلا جاؤں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے ، اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں ، مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14408
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1428)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ قَالَ الْقَوْمُ : انْتَصَفَ الْقَوْمُ مِنَّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ، تو قوم ( یعنی مشرکین مکہ ) نے کہا: اب ہماری تعداد نصف رہ گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14409
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11659)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : إِنْ كَانَ إِسْلَامُ عُمَرَ لَفَتْحًا ، وَهِجْرَتُهُ لَنَصْرًا ، وَإِمَارَتُهُ رَحْمَةً ، وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ بِالْبَيْتِ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ ، فَلَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ قَاتَلَهُمْ حَتَّى دَعُونَا فَصَلَّيْنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا کشادگی کا باعث تھا ، ان کی ہجرت مدد کا باعث تھی ، ان کی حکومت رحمت تھی ، اللہ کی قسم ! ہم اس وقت تک ( کھلے عام ) نماز ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھ پائے تھے جب تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول نہیں کر لیا ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تو انہوں نے لوگوں کے ساتھ لڑائی کی ، یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں یہ موقع دیا کہ ہم ( کھلے عام ) نماز ادا کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14410
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8820)»
وَفِيهِ رِوَايَةٌ : مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ظَاهِرِينَ . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْقَاسِمَ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ہم یہ استطاعت نہیں رکھتے تھے کہ خانہ کعبہ کے پاس کھلے عام نماز ادا کریں ۔ “ اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ قاسم نامی راوی نے اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14411
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8806)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ جَهَرَ بِالْإِسْلَامِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے اپنے اسلام کا کھلے عام اظہار سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14412
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10890)»