مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي إِسْلَامِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ " . ¤ وَقَدْ ضَرَبَ أُخْتَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَهِيَ تَقْرَأُ : ( اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ) حَتَّى ظَنَّ أَنَّهُ قَتَلَهَا ، ثُمَّ قَامَ فِي السَّحَرِ ، فَسَمِعَ صَوْتَهَا تَقْرَأُ : ( اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ) فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا هَذَا بِشِعْرٍ وَلَا هَمْهَمَةٍ ، فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ ، فَدَفَعَ الْبَابَ ، فَقَالَ بِلَالٌ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . فَقَالَ : حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ بِلَالٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عُمَرُ بِالْبَابِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِعُمَرَ خَيْرًا يُدْخِلْهُ فِي الدِّينِ " . فَقَالَ لِبِلَالٍ : " افْتَحْ " . وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ بِضَبْعَيْهِ وَهَزَّهُ ، وَقَالَ : " مَا الَّذِي تُرِيدُ ؟ وَمَا الَّذِي جِئْتَ ؟ " . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اعْرِضْ عَلَيَّ الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ . فَقَالَ : " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . فَأَسْلَمَ عُمَرُ مَكَانَهُ وَقَالَ : اخْرُجْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) رات کے ابتدائی حصے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کی پٹائی کی تھی ، جو یہ آیت پڑھ رہی تھیں : ” تم اپنے پروردگار کے اسم کے ہمراہ پڑھو جس نے پیدا کیا ہے ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی اتنی پٹائی کی کہ انہیں یہ لگا کہ شاید وہ اس خاتون کو قتل کر دیں گے ، پھر وہ صبح کے وقت اٹھے تو انہوں نے اس خاتون کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : ” تم اپنے پروردگار کے اسم کے ہمراہ پڑھو جس نے پیدا کیا ہے ۔ “ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ نہ تو شعر ہے ، اور نہ ہی ہمہمہ ( یعنی نغمہ ) ہے ، پھر وہ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے پر پایا ، انہوں نے دروازے پر دستک دی ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عمر بن خطاب ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: پہلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دروازے پر عمر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے عمر کے بارے میں اگر بھلائی کا ارادہ کر لیا ہے ، تو وہ اسے دین میں داخل کروا دے گا ، آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : دروازہ کھول دو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دونوں پہلوؤں کو پکڑ کر انہیں ہلایا اور بولے : تم کیا چاہتے ہو اور کس لئے آئے ہو ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ میرے سامنے وہ چیز بیان کیجئے جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی جگہ اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم چلے جاؤ ( یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا میں چلا جاؤں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے ، اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں ، مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔