حدیث نمبر: 14407
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : خَرَجْتُ أَبْغِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ أُسْلِمَ ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ ، فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْحَاقَّةِ ، فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مِنْ تَأْلِيفِ الْقُرْآنِ . قَالَ : فَقُلْتُ : هَذَا وَاللَّهِ شَاعِرٌ كَمَا قَالَتْ قُرَيْشٌ . قَالَ : فَقَرَأَ : ( إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ ) قُلْتُ : كَاهِنٌ . قَالَ : ( وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) إِلَى آخِرِ السُّورَةِ . قَالَ : فَوَقَعَ الْإِسْلَامُ مِنْ قَلْبِي كُلَّ مَوْقِعٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ شُرَيْحَ بْنَ عُبَيْدٍ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اسلام قبول کرنے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا ، آپ مجھ سے پہلے مسجد میں پہنچے ہوئے تھے ، میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا ، آپ نے سورت حاقہ پڑھنی شروع کی ، تو قرآن کے نظم کے حوالے سے میں بہت حیران ہوا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے سوچا اللہ کی قسم ! یہ صاحب شاعر ہیں ، جس طرح قریش یہ بات کہتے ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” یہ معزز رسول کا ( نقل کیا ہوا ) کلام ہے ، یہ شاعر کا کلام نہیں ہے ( مگر ) تم کم ہی یقین رکھتے ہو ۔ “ میں نے سوچا کہ یہ کاہن ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” یہ کسی کاہن کا کلام نہیں ہے ( مگر ) تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو اس وقت اسلام مکمل طور پر میرے دل میں گھر کر گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ شریح بن عبید نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14407
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (107)»