حدیث نمبر: 14400
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : رَكِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَسًا ، فَرَكَضَهُ فَانْكَشَفَ فَخِذُهُ ، فَرَأَى أَهْلُ نَجْرَانُ عَلَى فَخِذِهِ شَامَةً سَوْدَاءَ قَالُوا : هَذَا الَّذِي نَجِدُ فِي كِتَابِنَا : إِنَّهُ يُخْرِجُنَا مِنْ أَرْضِنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ہوئے ، انہوں نے اسے ایڑ لگائی ، تو ان کے زانوں سے کپڑا ہٹ گیا ، اہل نجران نے ان کے زانوں پر سیاہ رنگ کا تل دیکھا ، تو بولے : یہ وہی صاحب ہیں جن کا ذکر ہم نے اپنی کتاب میں پایا ہے ، کہ یہ ہمیں ہماری سرزمین سے نکال دیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14401
وَعَنْ زِرٍّ قَالَ : كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ ، أَعْسَرُ أَيْسَرُ ، ضَخْمٌ ، إِذَا أَشْرَفَ عَلَى النَّاسِ كَأَنَّهُ عَلَى دَابَّةٍ ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں موجود تھا وہاں ایک گندمی رنگ کے صاحب موجود تھے جن کے سر کے آگے کے بال اڑے ہوئے تھے ، وہ بھاری بھرکم شخصیت کے مالک تھے ، وہ جب لوگوں کے درمیان ہوتے تو یوں محسوس ہوتا ، جیسے کسی سواری پر سوار ہیں ۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14402
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ رَجُلًا ضَخْمًا ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ سَدُوسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ہلال بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایک بھاری بھرکم شخص تھے ، یوں جیسے وہ سدوس سے تعلق رکھنے والے فرد ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14403
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : كَانَ عُمَرُ أَصْلَعَ شَدِيدَ الصَّلَعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْخِضَابِ بَعْضُ صِفَاتِهِ وَصِفَاتِ غَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بال آگے کی طرف سے بالکل اڑے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے خضاب سے متعلق باب میں ان کا اور دیگر لوگوں کا کچھ حلیہ بیان ہو چکا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے خضاب سے متعلق باب میں ان کا اور دیگر لوگوں کا کچھ حلیہ بیان ہو چکا ہے ۔