عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ أَهْدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً مَسْمُومَةً فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ : " مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ ؟ " . قَالَتْ : أَحْبَبْتُ - أَوْ أَرَدْتُ - إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ تَكُ نَبِيًّا أُرِيحُ النَّاسَ مِنْكَ . قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا احْتَجَمَ . قَالَ : فَسَافَرَ مَرَّةً فَلَمَّا أَحْرَمَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَاحْتَجَمَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہودیوں سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے زہر ملی ہوئی بکری ( کا گوشت ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوا بھیجا اور آپ نے فرمایا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا: میں یہ چاہتی تھی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں یہ پسند کرتی تھی کہ اگر آپ نبی ہوئے ، تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے مطلع کر دے گا ، اور اگر آپ نبی نہ ہوئے ، تو میں لوگوں کو آپ سے نجات دلوا دوں گی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اس کی تکلیف محسوس ہوتی تھی ، تو آپ پچھنے لگوا لیتے تھے ، ایک مرتبہ آپ سفر کر رہے تھے ، آپ نے احرام باندھا ہوا تھا ، آپ کو تکلیف محسوس ہوئی ، تو آپ نے پچھنے لگوا لیے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن حباب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن حباب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِيهِ : وَأَهْدَتِ امْرَأَةٌ يَهُودِيَّةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً سَمِيطًا فَلَمَّا مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا لِيَأْكُلَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهَا يُخْبِرُنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ " . فَامْتَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَامْتَنَعَ مَنْ مَعَهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَقَالَ : " مَا حَمَلَكِ عَلَى أَنْ أَفْسَدْتِيهَا بَعْدَ أَنْ أَصْلَحْتِيهَا ؟ " . قَالَتْ : أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّكَ سَتَعْلَمُ ذَلِكَ ، وَإِنْ كُنْتَ غَيْرَ نَبِيٍّ أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، اس کی مانند روایت منقول ہے : تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” ایک یہودی عورت نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری ( کا گوشت ) تحفے کے طور پر دیا ، جس میں زہر ملا ہوا تھا ، انہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھانے کے لئے اس گوشت کی طرف بڑھایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے اعضاء میں سے ایک عضو نے مجھے بتایا ہے کہ اس میں زہر ملایا ہوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اس سے رک گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا کہ تم نے اسے ٹھیک کرنے کے بعد اسے خراب کر دیا ؟ اس نے کہا: میں یہ چاہتی تھی کہ میں جان لوں کہ اگر آپ نبی ہیں ، تو آپ کو اس کا پتہ چل جائے گا ، اور اگر آپ نبی نہ ہوئے ، تو میں لوگوں کو آپ سے نجات دلوا دوں گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ يَهُودِيَّةً أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً سَمِيطًا فَلَمَّا بَسَطَ الْقَوْمُ أَيْدِيَهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمْسِكُوا فَإِنَّ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهَا يُخْبِرُنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ " . فَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَتِهَا : " أَسَمَمْتِ طَعَامَكِ هَذَا ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ ؟ " . قَالَتْ : أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ ، وَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ . فَبَسَطَ يَدَهُ وَقَالَ : " كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ " . قَالَ : فَأَكَلْنَا وَذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ فَلَمْ يَضُرَّ أَحَدًا مِنَّا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی عورت نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ، بکری کا زہر ملا ہوا گوشت تحفے کے طور پر دیا ، جب لوگوں نے اپنے ہاتھ بڑھائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ رک جاؤ ! کیونکہ اس کے اعضاء میں سے ایک عضو نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اس میں زہر ملا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت کیا : کیا تم نے اپنے اس کھانے میں زہر ملایا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ اس نے کہا: میں نے یہ ارادہ کیا کہ اگر آپ جھوٹے ہوئے تو میں آپ سے لوگوں کو نجات دلوا دوں گی اور اگر آپ سچے ہوئے تو مجھے یہ پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے مطلع کر دے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور فرمایا : اللہ کا نام لے کے کھاؤ ! راوی کہتے ہیں : ہم نے اُسے کھا لیا ، ہم نے اللہ کا نام بھی لے لیا ، تو اس نے ہم میں سے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچایا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً مَصْلِيَّةً بِخَيْبَرَ . فَقَالَ لَهَا : " مَا هَذِهِ ؟ " . قَالَتْ : هَذِهِ هَدِيَّةٌ ، وَحَذِرَتْ أَنْ تَقُولَ مِنَ الصَّدَقَةِ . فَأَكَلَ وَأَكَلَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : " أَمْسِكُوا " . ثُمَّ قَالَ لِلْمَرْأَةِ : " هَلْ سَمَّمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ ؟ " . فَقَالَتْ : مَنْ أَخْبَرَكَ ؟ قَالَ : " هَذَا الْعَظْمُ لِسَاقِهَا " . وَهُوَ فِي يَدِهِ ، قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " لِمَ ؟ " . قَالَتْ : قُلْتُ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ يَسْتَرِيحَ النَّاسُ مِنْكَ ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ . فَاحْتَجَمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَاحْتَجَمُوا ، فَمَاتَ بَعْضُهُمْ . قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَأَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ ، فَزَعَمُوا أَنَّهُ قَتَلَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہودی عورت نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں بکری کا گوشت تحفے کے طور بر دیا ، جو بھنا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا: یہ تحفہ ہے ، اس نے یہ کہنے سے گریز کیا کہ یہ صدقہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اُسے کھانے لگے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں سے فرمایا : تم لوگ رک جاؤ ! پھر آپ نے اس عورت سے دریافت کیا : کیا تم نے اس میں زہر ملایا ہے ؟ اس عورت نے پوچھا: آپ کو کس نے بتایا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ہڈی نے ، آپ نے بکری کی پنڈلی کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، جو آپ کے ہاتھ میں تھی ، اس عورت نے کہا: جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیوں ( یعنی تم نے ایسا کیوں کیا ) ؟ اس نے کہا: میں نے سوچا کہ اگر آپ جھوٹے ہوئے ، تو آپ سے لوگوں کو نجات مل جائے گی ، اور اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھے کے قریب پچھنے لگوائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ، انہوں نے بھی پچھنے لگوائے ، ان اصحاب میں سے ایک کا انتقال بھی ہو گیا تھا ۔ زہری بیان کرتے ہیں : اس عورت نے اسلام قبول کر لیا تھا ، لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو قتل کروا دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن بکر بالسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، ابن عدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن بکر بالسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، ابن عدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةٌ مَسْمُومَةٌ مَصْلِيَّةٌ ، فَأَكَلَ مِنْهَا هُوَ وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ ، فَمَرِضَا مَرَضًا شَدِيدًا ، ثُمَّ إِنَّ بِشْرًا مَاتَ ، فَلَمَّا مَاتَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَهُودِيَّةِ الَّتِي أَهْدَتْهَا لَهُ فَقَالَ : " مَا أَطَعَمْتِينَا وَيْحَكِ ؟ " . قَالَتْ : أَطْعَمْتُكَ السُّمَّ . قَالَ : " مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ ؟ " . قَالَتْ : سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ ، فَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا عَلِمْتُ أَنَّهَا لَا تَضُرُّكَ ، وَإِنْ كُنْتَ غَيْرَ ذَلِكَ فَأَرَدْتُ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ . ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصُلِبَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَيَحْيَى هَذَا إِنْ كَانَ ابْنَ أَبِي لَبِيبَةَ فَقَدْ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ وَإِنْ كَانَ ابْنَ لَبِيبَةَ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن عبدالرحمن بن لبیبہ ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری کا گوشت پیش کیا گیا ، جو بھنا ہوا تھا ، اور اس میں زہر ملادیا گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے اس گوشت میں سے کھا لیا ، یہ دونوں شدید بیمار ہو گئے ، سیدنا بشر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا جب ان کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی عورت کو پیغام بھیج کر بلوایا ، جس نے وہ آپ کو تحفے کے طور پر بھجوایا تھا ، آپ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، تم نے ہمیں کیا کھلایا ہے ؟ اس نے کہا: کہ میں نے آپ کو زہر کھلایا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو ایک بات ذکر کرتے ہوئے سنا کہ آپ نبی ہیں ، تو مجھے یہ علم تھا کہ یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا ، اور اگر آپ نبی نہ ہوئے تو میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ لوگوں کو آپ سے نجات دلوا دوں گی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا ، تو اسے مصلوب کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور یحیی نامی راوی اگر تو ابن ابولبیبہ ہے ، تو امام ذہبی نے اس کا ذکر ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ، اور اگر یہ ابن لبیبہ ہے تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور یحیی نامی راوی اگر تو ابن ابولبیبہ ہے ، تو امام ذہبی نے اس کا ذکر ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ، اور اگر یہ ابن لبیبہ ہے تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَأْكُلُ مِنْ هَدِيَّةٍ حَتَّى يَأْمُرَ صَاحِبَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا لِلشَّاةِ الَّتِي أُهْدِيَتْ لَهُ بِخَيْبَرَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيِّ وَثَّقَهُ الْإِسْمَاعِيلِيُّ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ مِنْ مُرْسَلِ عُرْوَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بھی تحفہ اس وقت تک نہیں کھاتے تھے ، جب تک آپ لانے والے فرد کو یہ ہدایت نہیں کرتے تھے کہ وہ خود بھی اُس میں سے کھا لے ، ایسا اس بکری کی وجہ سے ہوا ، جو خیبر میں آپ کو تحفے کے طور پر دی گئی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ابراہیم بن عبداللہ مخرمی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے اسماعیلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دارقطنی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے غزوہ خیبر سے متعلق باب میں عروہ کی نقل کردہ ” مرسل “ روایت گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ابراہیم بن عبداللہ مخرمی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے اسماعیلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دارقطنی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے غزوہ خیبر سے متعلق باب میں عروہ کی نقل کردہ ” مرسل “ روایت گزر چکی ہے ۔