مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ . باب: زہریلی بکری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةٌ مَسْمُومَةٌ مَصْلِيَّةٌ ، فَأَكَلَ مِنْهَا هُوَ وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ ، فَمَرِضَا مَرَضًا شَدِيدًا ، ثُمَّ إِنَّ بِشْرًا مَاتَ ، فَلَمَّا مَاتَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَهُودِيَّةِ الَّتِي أَهْدَتْهَا لَهُ فَقَالَ : " مَا أَطَعَمْتِينَا وَيْحَكِ ؟ " . قَالَتْ : أَطْعَمْتُكَ السُّمَّ . قَالَ : " مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ ؟ " . قَالَتْ : سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ ، فَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا عَلِمْتُ أَنَّهَا لَا تَضُرُّكَ ، وَإِنْ كُنْتَ غَيْرَ ذَلِكَ فَأَرَدْتُ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ . ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصُلِبَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَيَحْيَى هَذَا إِنْ كَانَ ابْنَ أَبِي لَبِيبَةَ فَقَدْ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ وَإِنْ كَانَ ابْنَ لَبِيبَةَ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤یحیی بن عبدالرحمن بن لبیبہ ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری کا گوشت پیش کیا گیا ، جو بھنا ہوا تھا ، اور اس میں زہر ملادیا گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے اس گوشت میں سے کھا لیا ، یہ دونوں شدید بیمار ہو گئے ، سیدنا بشر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا جب ان کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی عورت کو پیغام بھیج کر بلوایا ، جس نے وہ آپ کو تحفے کے طور پر بھجوایا تھا ، آپ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، تم نے ہمیں کیا کھلایا ہے ؟ اس نے کہا: کہ میں نے آپ کو زہر کھلایا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو ایک بات ذکر کرتے ہوئے سنا کہ آپ نبی ہیں ، تو مجھے یہ علم تھا کہ یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا ، اور اگر آپ نبی نہ ہوئے تو میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ لوگوں کو آپ سے نجات دلوا دوں گی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا ، تو اسے مصلوب کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور یحیی نامی راوی اگر تو ابن ابولبیبہ ہے ، تو امام ذہبی نے اس کا ذکر ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ، اور اگر یہ ابن لبیبہ ہے تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔