کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورج کا نبی اکرم ﷺ کے لئے رک جانا
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ الشَّمْسَ فَتَأَخَّرَتْ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کو حکم دیا ، تو وہ دن کی ایک گھڑی کے لئے رک گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14095
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَمِيسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الظُّهْرَ بِالصَّهْبَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ عَلِيًّا فِي حَاجَةٍ ، فَرَجَعَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَصْرَ ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ فَنَامَ ، فَلَمْ يُحَرِّكْهُ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ عَلِيًّا احْتَبَسَ بِنَفْسِهِ عَلَى نَبِيِّهِ فَرُدَّ عَلَيْهِ الشَّمْسَ " . قَالَتْ أَسْمَاءُ : فَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ حَتَّى وَقَفَتْ عَلَى الْجِبَالِ وَعَلَى الْأَرْضِ ، وَقَامَ عَلِيٌّ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ غَابَتْ فِي ذَلِكَ بِالصَّهْبَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” صہباء “ کے مقام پر ظہر کی نماز ادا کی ، پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی کام کے سلسلے میں بھیج دیا ، جب وہ واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر چکے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں سر رکھا اور سو گئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حرکت نہیں کی ، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تیرا بندہ علی ، اس نے اپنے آپ کو اپنے نبی کے لئے روک کے رکھا ہوا تھا ، تو اس کے لئے سورج کو لوٹا دے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو سورج دوبارہ طلوع ہو گیا ، یہاں تک کہ وہ پہاڑوں اور زمین پر آ کے ٹھہر گیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اٹھے انہوں نے وضو کیا ، نماز ادا کی ، پھر اس کے بعد سورج صہباء میں غروب ہوا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14096
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (144/24)»
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يَكَادُ يُغْشَى عَلَيْهِ ، فَأَنْزَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا وَهُوَ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَّيْتَ الْعَصْرَ " . قَالَ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَدَعَا اللَّهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ الشَّمْسَ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ . قَالَتْ : فَرَأَيْتُ الشَّمْسَ طَلَعَتْ بَعْدَمَا غَابَتْ حِينَ رُدَّتْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَسَنٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لَمْ أَعْرِفْهَا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں ، جو اس عورت سے منقول ہے ، وہ یہ ہے : ” وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ کی یہ کیفیت ہو جاتی تھی ، جیسے آپ پر بے ہوشی طاری ہو جائے گی ، ایک دن آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی ، آپ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں ( سر رکھے ہوئے ) تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : کیا تم نے عصر پڑھ لی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی سے دعا کی کہ اے اللہ ! تو علی کے لئے سورج کو لوٹا دے ، تاکہ وہ عصر پڑھ لے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے سورج کو دیکھا کہ وہ غروب ہو جانے کے بعد پھر طلوع ہو گیا تھا ، یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز ادا کر لی ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، ان میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، انہوں نے اسے ابراہیم بن حسن کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور فاطمہ بنت علی بن ابوطالب نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14097
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (147/24)»