مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ . باب: زہریلی بکری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً مَصْلِيَّةً بِخَيْبَرَ . فَقَالَ لَهَا : " مَا هَذِهِ ؟ " . قَالَتْ : هَذِهِ هَدِيَّةٌ ، وَحَذِرَتْ أَنْ تَقُولَ مِنَ الصَّدَقَةِ . فَأَكَلَ وَأَكَلَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : " أَمْسِكُوا " . ثُمَّ قَالَ لِلْمَرْأَةِ : " هَلْ سَمَّمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ ؟ " . فَقَالَتْ : مَنْ أَخْبَرَكَ ؟ قَالَ : " هَذَا الْعَظْمُ لِسَاقِهَا " . وَهُوَ فِي يَدِهِ ، قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " لِمَ ؟ " . قَالَتْ : قُلْتُ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ يَسْتَرِيحَ النَّاسُ مِنْكَ ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ . فَاحْتَجَمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَاحْتَجَمُوا ، فَمَاتَ بَعْضُهُمْ . قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَأَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ ، فَزَعَمُوا أَنَّهُ قَتَلَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہودی عورت نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں بکری کا گوشت تحفے کے طور بر دیا ، جو بھنا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا: یہ تحفہ ہے ، اس نے یہ کہنے سے گریز کیا کہ یہ صدقہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اُسے کھانے لگے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں سے فرمایا : تم لوگ رک جاؤ ! پھر آپ نے اس عورت سے دریافت کیا : کیا تم نے اس میں زہر ملایا ہے ؟ اس عورت نے پوچھا: آپ کو کس نے بتایا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ہڈی نے ، آپ نے بکری کی پنڈلی کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، جو آپ کے ہاتھ میں تھی ، اس عورت نے کہا: جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیوں ( یعنی تم نے ایسا کیوں کیا ) ؟ اس نے کہا: میں نے سوچا کہ اگر آپ جھوٹے ہوئے ، تو آپ سے لوگوں کو نجات مل جائے گی ، اور اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھے کے قریب پچھنے لگوائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ، انہوں نے بھی پچھنے لگوائے ، ان اصحاب میں سے ایک کا انتقال بھی ہو گیا تھا ۔ زہری بیان کرتے ہیں : اس عورت نے اسلام قبول کر لیا تھا ، لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو قتل کروا دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن بکر بالسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، ابن عدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔