حدیث نمبر: 14091
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ يَهُودِيَّةً أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً سَمِيطًا فَلَمَّا بَسَطَ الْقَوْمُ أَيْدِيَهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمْسِكُوا فَإِنَّ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهَا يُخْبِرُنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ " . فَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَتِهَا : " أَسَمَمْتِ طَعَامَكِ هَذَا ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ ؟ " . قَالَتْ : أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ ، وَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ . فَبَسَطَ يَدَهُ وَقَالَ : " كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ " . قَالَ : فَأَكَلْنَا وَذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ فَلَمْ يَضُرَّ أَحَدًا مِنَّا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی عورت نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ، بکری کا زہر ملا ہوا گوشت تحفے کے طور پر دیا ، جب لوگوں نے اپنے ہاتھ بڑھائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ رک جاؤ ! کیونکہ اس کے اعضاء میں سے ایک عضو نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اس میں زہر ملا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت کیا : کیا تم نے اپنے اس کھانے میں زہر ملایا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ اس نے کہا: میں نے یہ ارادہ کیا کہ اگر آپ جھوٹے ہوئے تو میں آپ سے لوگوں کو نجات دلوا دوں گی اور اگر آپ سچے ہوئے تو مجھے یہ پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے مطلع کر دے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور فرمایا : اللہ کا نام لے کے کھاؤ ! راوی کہتے ہیں : ہم نے اُسے کھا لیا ، ہم نے اللہ کا نام بھی لے لیا ، تو اس نے ہم میں سے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچایا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14091
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2424)»