حدیث نمبر: 14089
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ أَهْدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً مَسْمُومَةً فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ : " مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ ؟ " . قَالَتْ : أَحْبَبْتُ - أَوْ أَرَدْتُ - إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ تَكُ نَبِيًّا أُرِيحُ النَّاسَ مِنْكَ . قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا احْتَجَمَ . قَالَ : فَسَافَرَ مَرَّةً فَلَمَّا أَحْرَمَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَاحْتَجَمَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہودیوں سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے زہر ملی ہوئی بکری ( کا گوشت ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوا بھیجا اور آپ نے فرمایا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا: میں یہ چاہتی تھی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں یہ پسند کرتی تھی کہ اگر آپ نبی ہوئے ، تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے مطلع کر دے گا ، اور اگر آپ نبی نہ ہوئے ، تو میں لوگوں کو آپ سے نجات دلوا دوں گی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اس کی تکلیف محسوس ہوتی تھی ، تو آپ پچھنے لگوا لیتے تھے ، ایک مرتبہ آپ سفر کر رہے تھے ، آپ نے احرام باندھا ہوا تھا ، آپ کو تکلیف محسوس ہوئی ، تو آپ نے پچھنے لگوا لیے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن حباب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14089
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2785)»