حدیث نمبر: 14090
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِيهِ : وَأَهْدَتِ امْرَأَةٌ يَهُودِيَّةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً سَمِيطًا فَلَمَّا مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا لِيَأْكُلَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهَا يُخْبِرُنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ " . فَامْتَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَامْتَنَعَ مَنْ مَعَهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَقَالَ : " مَا حَمَلَكِ عَلَى أَنْ أَفْسَدْتِيهَا بَعْدَ أَنْ أَصْلَحْتِيهَا ؟ " . قَالَتْ : أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّكَ سَتَعْلَمُ ذَلِكَ ، وَإِنْ كُنْتَ غَيْرَ نَبِيٍّ أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، اس کی مانند روایت منقول ہے : تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” ایک یہودی عورت نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری ( کا گوشت ) تحفے کے طور پر دیا ، جس میں زہر ملا ہوا تھا ، انہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھانے کے لئے اس گوشت کی طرف بڑھایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے اعضاء میں سے ایک عضو نے مجھے بتایا ہے کہ اس میں زہر ملایا ہوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اس سے رک گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا کہ تم نے اسے ٹھیک کرنے کے بعد اسے خراب کر دیا ؟ اس نے کہا: میں یہ چاہتی تھی کہ میں جان لوں کہ اگر آپ نبی ہیں ، تو آپ کو اس کا پتہ چل جائے گا ، اور اگر آپ نبی نہ ہوئے ، تو میں لوگوں کو آپ سے نجات دلوا دوں گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14090
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2423)»