مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ . باب: زہریلی بکری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَأْكُلُ مِنْ هَدِيَّةٍ حَتَّى يَأْمُرَ صَاحِبَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا لِلشَّاةِ الَّتِي أُهْدِيَتْ لَهُ بِخَيْبَرَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيِّ وَثَّقَهُ الْإِسْمَاعِيلِيُّ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ مِنْ مُرْسَلِ عُرْوَةَ . ¤سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بھی تحفہ اس وقت تک نہیں کھاتے تھے ، جب تک آپ لانے والے فرد کو یہ ہدایت نہیں کرتے تھے کہ وہ خود بھی اُس میں سے کھا لے ، ایسا اس بکری کی وجہ سے ہوا ، جو خیبر میں آپ کو تحفے کے طور پر دی گئی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ابراہیم بن عبداللہ مخرمی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے اسماعیلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دارقطنی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے غزوہ خیبر سے متعلق باب میں عروہ کی نقل کردہ ” مرسل “ روایت گزر چکی ہے ۔