کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: دشمنی رکھنے کے بارے میں جو کچجھ منقول ہے
❮
❯
عَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مُشْرِكٍ ، أَوْ مُشَاحِنٍ لِأَخِيهِ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي الْجَرْحِ وَالتَّعْدِيلِ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب شعبان کی نصف رات آتی ہے ( یعنی شب برأت آتی ) تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے ، اور اپنے بندوں کی مغفرت کر دیتا ہے البتہ مشرک شخص اور اپنے بھائی کے ساتھ دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والے شخص کی مغفرت نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن عبدالملک ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے الجرح و التعدیل میں کیا ہے ۔ انہوں نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12957
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2045)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، يَغْفِرُ اللَّهُ لِعِبَادِهِ ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب شعبان کی نصف رات آتی ہے ( یعنی شب برأت آتی ہے ) تو اللہ تعالیٰ مشرک شخص اور دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والے شخص کے علاوہ اپنے ( سب ) بندوں کی مغفرت کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن عبدالرحمن ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12958
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2046) ، أخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 9268»
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" يَطَّلِعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ كُلَّهُمْ ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ ، أَوْ مُشَاحِنٍ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نصف شعبان کی رات ( یعنی برأت میں ) اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور ان سب کی مغفرت دیتا ہے صرف مشرک اور دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والے شخص کی مغفرت نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، جس کو أحمد بن صالح نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جو کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12959
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2048) ، أخرجه مسند البزار برقم: 2754»
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ :
" يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَى جَمِيعِ خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ ، أَوْ مُشَاحِنٍ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنی ساری مخلوق کی مغفرت کر دیتا ہے البتہ مشرک شخص اور دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12960
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (108/20) ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6772»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ :
" يَطَّلِعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا لِاثْنَيْنِ : مُشَاحِنٍ ، وَقَاتِلِ نَفْسٍ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور اپنے بندوں کی مغفرت کر دیتا ہے البتہ دو قسم کے افراد کا معاملہ مختلف ہے ، دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والا شخص اور کسی کو قتل کرنے والا شخص ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12961
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6642) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 6604»
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ :
" يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَى عِبَادِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَيُمْهِلُ الْكَافِرِينَ ، وَيَدَعُ أَهْلَ الْحِقْدِ لِحِقْدِهِمْ حَتَّى يَدْعُوهُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہو کر تمام اہل ایمان کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور کافروں کو مہلت دیدیتا ہے البتہ آپس میں ناراضگی رکھنے والے لوگوں کو چھوڑ دیتا ہے ، جب تک وہ لوگ اس ناراضگی کو نہیں چھوڑتے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12962
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (223/22) ، أخرجه السنن الصغير للبيهقي برقم: 1426»
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ :
" تُعْرَضُ أَعْمَالُ بَنِي آدَمَ كُلَّ اثْنَيْنِ وَفِي كُلِّ خَمِيسٍ ، فَيَرْحَمُ الْمُتَرَحِّمِينَ وَيَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِينَ ، ثُمَّ يَذَرُ أَهْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِهِمْ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر پیر اور جمعرات کے دن اولاد آدم کے اعمال ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) پیش کئے جاتے ہیں تو وہ رحم مانگنے والوں پر رحم کرتا ہے مغفرت مانگنے والوں کی مغفرت کرتا ہے ، اور پھر آپس میں ناراضگی رکھنے والوں کو ان کی ناراضگی سمیت چھوڑ دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید الہانی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12963
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2049) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9776) ، أخرجه مسند البزار برقم: 1460، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 9776»
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ :
" تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مُتَشَاحِنَيْنِ أَوْ قَاطِعِ رَحِمٍ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پیر اور جمعرات کے دن اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ( لوگوں کی یا ان کے اعمال کی ) مغفرت کر دیتا ہے البتہ آپس میں ناراضگی رکھنے والوں اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والوں کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12964
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (409) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 409»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" تُنْسَخُ دَوَاوِينُ أَهْلِ الْأَرْضِ فِي دَوَاوِينِ أَهْلِ السَّمَاءِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ ، فَيَغْفِرُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلَّا رَجُلٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ " .
قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل زمین کے دیوانوں ( یعنی نامہ اعمال ) کی نقل اہل آسمان کے دیوانوں میں کی جاتی ہے ، ایسا ہر پیر اور جمعرات کے دن ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی مغفرت کر دیتا ہے ، جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ کوئی ناراضگی چل رہی ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12965
درجۂ حدیث محدثین: إسنادُہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه سنن أبي داود برقم: 4916، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 9274»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ إِلَّا وَبَيْنَهُمَا سِتْرٌ مِنَ اللَّهِ ، فَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ كَلِمَةَ هَجْرٍ ، خَرَقَ سِتْرَ اللَّهِ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِزِيَادَةٍ وَسَتَأْتِي ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر دو مسلمانوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پردہ ہوتا ہے ، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی سے لاتعلقی اختیار کرنے کی بات کرتا ہے ، تو وہ پردہ پھٹ جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اضافے کے ساتھ نقل کی ہے ، جو آگے آئے گی اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12966
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2047) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (10544) ، أخرجه مسند البزار برقم: 1869، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10544»
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ :
" تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ، فَمِنْ مُسْتَغْفِرٍ يُغْفَرُ لَهُ ، وَمِنْ تَائِبٍ فَيُتَابُ عَلَيْهِ ، وَيَتْرُكُ أَهْلَ الضَّغَائِنِ بِضَغَائِنِهِمْ حَتَّى يَتُوبُوا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اعمال پیر اور جمعرات کے دن ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) پیش کیے جاتے ہیں ، تو جو شخص مغفرت طلب کرنے والا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے ، جو شخص توبہ کرنے والا ہوتا ہے ۔ اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے ، اور آپس میں ناراضگی رکھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے ، جب تک وہ توبہ نہیں کرتے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12967
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح