کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: لاتعلقی اختیار کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے لاتعلقی اختیار کرے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صِرَامِهِمَا ، وَأَوَّلُهُمَا تَسْلِيمًا يَكُونُ سَبَقَهُ بِأَلْفَيْ كَفَّارَةٍ ، وَإِنْ سَلَّمَ فَلَمْ يَقْبِلْ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ ، فَإِنْ مَاتَا عَلَى صِرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ دوسرے مسلمان سے لاتعلقی اختیار کرے جب تک وہ دونوں اپنی لاتعلقی پر برقرار رہیں گے وہ حق سے عدول کرنے والے ہوں گے ، اور ان دونوں میں سے جو سلام کرنے میں پہل کرے گا ، تو وہ دو ہزار کفاروں کے ساتھ اس کام کی طرف سبقت لے جائے گا ، اور اگر اس نے سلام کر لیا ، اور دوسرے شخص نے اسے قبول نہیں کیا اور سلام کا جواب نہیں دیا تو فرشتے اسے سلام کا جواب دیں گے ، اور دوسرے شخص کو شیطان جواب دے گا ، اور اگر وہ دونوں مر گئے ، تو وہ دونوں کبھی بھی جنت میں داخل نہیں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : ¤ لَوْ أَنَّ رَجُلَيْنِ دَخَلَا فِي الْإِسْلَامِ فَاهْتَجَرَا ، لَكَانَ أَحَدُهُمَا خَارِجًا مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى يَرْجِعَ - يَعْنِي الظَّالِمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اگر دو آدمی اسلام میں داخل ہوں اور ایک دوسرے سے لاتعلقی اختیار کریں تو ان دونوں میں سے ایک اسلام سے خارج ہونے والا ہو گا ، جب تک وہ رجوع نہیں کرتا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یعنی ظالم ایسا ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْهُ قَالَ : لَا يَتَهَاجَرُ الرَّجُلَانِ قَدْ دَخَلَا فِي الْإِسْلَامِ ، إِلَّا خَرَجَ أَحَدُهُمَا مِنْهُ ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهُ . وَرُجُوعُهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَيُسَلِّمَ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِصْمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : دو آدمی جو اسلام میں داخل ہو چکے ہوں وہ جب ایک دوسرے سے لاتعلقی اختیار کرتے ہیں تو ان دونوں میں سے ایک اسلام سے نکل جاتا ہے ، جب تک وہ اس چیز کی طرف واپس نہیں آتا جس سے وہ نکلا ہے ، اور اس کا واپس آنا یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص کے پاس آ کر اسے سلام کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عصمہ بن سلیمان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عصمہ بن سلیمان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، أَحَدُهُمَا ضَعِيفٌ ، وَفِي الْآخَرِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُسَيْدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان میں سے ایک ضعیف ہے اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابواسید ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان میں سے ایک ضعیف ہے اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابواسید ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَحِلُّ الْهَجْرُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَإِنِ الْتَقَيَا فَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ فَرَدَّ السَّلَامَ ، اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ ، وَإِنْ أَبَى الْآخَرُ أَنْ يَرُدَّ السَّلَامَ بَرِئَ هَذَا مِنَ الْإِثْمِ وَبَاءَ بِهِ الْآخَرُ ، وَقَدْ خَشِيتُ إِنْ مَاتَا وَهُمَا مُتَهَاجِرَانِ ، لَا يَجْتَمِعَانِ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ فِي الْإِمَامِ : إِنَّهُ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرنا جائز نہیں ہے ، جب وہ دونوں ملیں تو ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرے اور دوسرا سلام کا جواب دیدے ، تو وہ دونوں ثواب میں حصے دار ہو جاتے ہیں ، اور اگر دوسرا شخص سلام کا جواب دینے سے انکار کر دے تو پہلے شخص سے گناہ لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور دوسرا شخص اس گناہ کو لے کے واپس جاتا ہے ، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر وہ دونوں اس حالت میں مریں کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے لاتعلقی اختیار کیے ہوئے ہوں ، تو وہ جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید نے یہ کہا: ہے کہ اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید نے یہ کہا: ہے کہ اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، يَلْتَقِيَانِ ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا . وَالَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ يَسْبِقُ إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو ، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو ، اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ ( یا اے اللہ کے بندو ! تم بھائی بھائی بن جاؤ ) کسی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرے ، یوں کہ جب وہ دونوں ملیں تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ( ان دونوں میں سے ) جو شخص سلام میں پہل کرے گا وہ جنت کی طرف سبقت لے جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَقَاطَعُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، هَجْرُ الْمُؤْمِنَيْنِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ تَكَلَّمَا ، وَإِلَّا أَعْرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُمَا حَتَّى يَتَكَلَّمَا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو ، ایک دوسرے سے لاتعلقی اختیار نہ کرو ، اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ ( یا اے اللہ کے بندو ! تم بھائی بھائی بن جاؤ ) مومنین کی لاتعلقی تین دن ہو گی ، اگر وہ دونوں بات چیت کر لیں تو ٹھیک ہے ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان دونوں سے لاتعلق ہو جائے گا ، جب تک وہ ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت نہیں کرتے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَا مِنْ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَلَا خَمِيسٍ إِلَّا تُرْفَعُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ ، إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال بلند کیے جاتے ہیں ( یعنی اوپر لے جائے جاتے ہیں ) البتہ آپس میں لاتعلقی اختیار کرنے والے لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَهُوَ فِي النَّارِ ، إِلَّا أَنْ يَتَدَارَكَهُ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے لاتعلقی اختیار کرے وہ جہنم میں جائے گا ، البتہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اس کو نصیب کر دے ، تو معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔