مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّحْنَاءِ باب: دشمنی رکھنے کے بارے میں جو کچجھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12962
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَى عِبَادِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَيُمْهِلُ الْكَافِرِينَ ، وَيَدَعُ أَهْلَ الْحِقْدِ لِحِقْدِهِمْ حَتَّى يَدْعُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہو کر تمام اہل ایمان کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور کافروں کو مہلت دیدیتا ہے البتہ آپس میں ناراضگی رکھنے والے لوگوں کو چھوڑ دیتا ہے ، جب تک وہ لوگ اس ناراضگی کو نہیں چھوڑتے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔