مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّحْنَاءِ باب: دشمنی رکھنے کے بارے میں جو کچجھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12960
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَى جَمِيعِ خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ ، أَوْ مُشَاحِنٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنی ساری مخلوق کی مغفرت کر دیتا ہے البتہ مشرک شخص اور دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔