مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّحْنَاءِ باب: دشمنی رکھنے کے بارے میں جو کچجھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12959
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " يَطَّلِعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ كُلَّهُمْ ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ ، أَوْ مُشَاحِنٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نصف شعبان کی رات ( یعنی برأت میں ) اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور ان سب کی مغفرت دیتا ہے صرف مشرک اور دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والے شخص کی مغفرت نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، جس کو أحمد بن صالح نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جو کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔