کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: چھینکنے کا بیان اور چھینکنے والا شخص کیا پڑھے اور اسے کیا کہا جائے ؟
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا عَطَسَ خَمِرَ وَجْهُهُ ، وَخَفُضَ صَوْتُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَمِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَقَدْ وُثِّقَا ، وَضَعَّفَهُمَا جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو آپ اپنا چہرہ ڈھانپ لیتے تھے ، اور آپ اپنی آواز کو پست رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، اور ایک راوی مندل بن علی ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ایک جماعت نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، اور ایک راوی مندل بن علی ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ایک جماعت نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ذِي الْجَنَاحَيْنِ : ¤ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا عَطَسَ حَمَدَ اللَّهَ ، فَيُقَالُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، فَيَقُولُ : " يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر ( یہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ وہ ہیں ) جو ذوالجناحین ہیں ( یعنی پروں والے ہیں ) وہ ( یعنی عبداللہ بن جعفر ) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو آپ اللہ کی حمد بیان کرتے تھے ، آپ سے یہ کہا: جاتا تھا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، تو آپ یہ فرماتے تھے : اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک کرے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اگرچہ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اگرچہ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَطَسَ فَحَمِدَ اللهَ ، فَقَالُوا : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَسْبَاطُ بْنُ عَزْرَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھینک آئی آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ رحم کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسباط بن عزرہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسباط بن عزرہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : ¤ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا إِذَا عَطَسَ أَحَدُنَا أَنْ نُشَمِّتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کسی ایک کو چھینک آ جائے ، تو ہم اُسے چھینک کا جواب دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ " . قَالُوا : مَا نَقُولُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُولُوا : يَرْحَمُكَ اللَّهُ " . قَالَ : مَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُلْ لَهُمْ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آ گئی ، اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! میں کیا کہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم الحمدللہ کہو ! لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ہم اسے کیا کہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے یہ کہو : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اُس شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! پھر میں انہیں کیا کہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان سے یہ کہو : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور وہ حدیث میں کمزور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور وہ حدیث میں کمزور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ ، فَلْيَقُلْ مَنْ عِنْدَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ ، فَلْيَقُلْ : يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب کوئی شخص چھینکے تو وہ الحمدللہ کہے ، اور اس کے پاس موجود شخص یرحمک اللہ کہے ، جب وہ شخص یہ کہہ دے تو ( چھینکنے والا شخص ) یہ کہے : اللہ تعالیٰ میری اور تمہاری مغفرت کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ فَلْيَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، وَلْيَقُلْ مَنْ حَوْلَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، وَلْيَقُلْ هُوَ لِمَنْ حَوْلَهُ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص چھینکے تو وہ یہ کہے : ہر حال میں اللہ کا شکر ہے ، اور اس کے آس پاس موجود افراد یہ کہیں : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اور اس شخص کو اپنے آس پاس موجود افراد سے یہ کہنا چاہیے : اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک رکھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ : رَبِّ الْعَالَمِينَ ، فَإِذَا قَالَ : رَبُّ الْعَالَمِينَ ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ : رَحِمَكَ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص چھینکے تو وہ الحمدللہ کہے ، تو فرشتے یہ کہتے ہیں : رب العالمین ( یعنی اس اللہ کے لئے حمد مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ) اور جب بندے نے ساتھ رب العالمین بھی کہا: ، تو فرشتے یہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ - أَحْسَبُهُ ، قَالَ : عَلَى كُلِّ حَالٍ - وَلْيَقُلْ لَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، وَلْيَقُلْ هُوَ : يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَسْبَاطُ بْنُ عَزْرَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک شخص کو چھینک آئے ، تو اسے الحمد للہ کہنا چاہیے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ہر حال میں اور اس کو یہ کہا: جانا چاہیے اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے اور اس شخص کو یہ کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت کرے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسباط بن عزرہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسباط بن عزرہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلْيَقُلْ مَنْ عِنْدَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، وَلْيَقُلْ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک شخص کو چھینک آئے ، تو اسے الحمدللہ کہنا چاہیے اور اس کے پاس موجود شخص کو یرحمک اللہ کہنا چاہیے اور اس شخص کو یہ کہنا چاہیے : اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔