مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعُطَاسِ وَمَا يَقُولُ الْعَاطِسُ وَمَا يُقَالُ لَهُ باب: چھینکنے کا بیان اور چھینکنے والا شخص کیا پڑھے اور اسے کیا کہا جائے ؟
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ - أَحْسَبُهُ ، قَالَ : عَلَى كُلِّ حَالٍ - وَلْيَقُلْ لَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، وَلْيَقُلْ هُوَ : يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَسْبَاطُ بْنُ عَزْرَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک شخص کو چھینک آئے ، تو اسے الحمد للہ کہنا چاہیے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ہر حال میں اور اس کو یہ کہا: جانا چاہیے اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے اور اس شخص کو یہ کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت کرے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسباط بن عزرہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔