کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: کنیت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
❮
❯
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - :
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَنَّاهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَلَمْ يُولَدْ لَهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابوعبدالرحمن رکھی تھی حالانکہ ان کے ہاں اولاد نہیں ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12896
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8405) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8405»
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عُمَرَ الْأَسْلَمِيِّ :
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَنَّاهُ أَبَا صَالِحٍ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ .
محمد محی الدین
سیدنا حمزہ بن عمر اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابوصالح رکھی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2960) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 2961»
وَعَنْ أَبِي الْوَرْدِ قَالَ :
رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَآنِي رَجُلًا أَحْمَرَ ، فَقَالَ : " أَنْتَ أَبُو الْوَرْدِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَنَسَبَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ إِلَى الْكَذِبِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوورد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ کیا ، آپ نے میرے چہرے میں سرخی ملاحظہ کی تو ارشاد فرمایا : تم ابوالورد ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جبارہ بن مغلس ہے ، جسے ابن نمیر نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک سے زیادہ افراد نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12898
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (382/22) ، أخرجه شرح السنة برقم: 3607»