مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعُطَاسِ وَمَا يَقُولُ الْعَاطِسُ وَمَا يُقَالُ لَهُ باب: چھینکنے کا بیان اور چھینکنے والا شخص کیا پڑھے اور اسے کیا کہا جائے ؟
حدیث نمبر: 12908
وَعَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلْيَقُلْ مَنْ عِنْدَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، وَلْيَقُلْ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک شخص کو چھینک آئے ، تو اسے الحمدللہ کہنا چاہیے اور اس کے پاس موجود شخص کو یرحمک اللہ کہنا چاہیے اور اس شخص کو یہ کہنا چاہیے : اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔