مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعُطَاسِ وَمَا يَقُولُ الْعَاطِسُ وَمَا يُقَالُ لَهُ باب: چھینکنے کا بیان اور چھینکنے والا شخص کیا پڑھے اور اسے کیا کہا جائے ؟
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ " . قَالُوا : مَا نَقُولُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُولُوا : يَرْحَمُكَ اللَّهُ " . قَالَ : مَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُلْ لَهُمْ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آ گئی ، اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! میں کیا کہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم الحمدللہ کہو ! لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ہم اسے کیا کہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے یہ کہو : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اُس شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! پھر میں انہیں کیا کہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان سے یہ کہو : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور وہ حدیث میں کمزور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔