مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعُطَاسِ وَمَا يَقُولُ الْعَاطِسُ وَمَا يُقَالُ لَهُ باب: چھینکنے کا بیان اور چھینکنے والا شخص کیا پڑھے اور اسے کیا کہا جائے ؟
حدیث نمبر: 12904
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ ، فَلْيَقُلْ مَنْ عِنْدَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ ، فَلْيَقُلْ : يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب کوئی شخص چھینکے تو وہ الحمدللہ کہے ، اور اس کے پاس موجود شخص یرحمک اللہ کہے ، جب وہ شخص یہ کہہ دے تو ( چھینکنے والا شخص ) یہ کہے : اللہ تعالیٰ میری اور تمہاری مغفرت کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔