مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعُطَاسِ وَمَا يَقُولُ الْعَاطِسُ وَمَا يُقَالُ لَهُ باب: چھینکنے کا بیان اور چھینکنے والا شخص کیا پڑھے اور اسے کیا کہا جائے ؟
حدیث نمبر: 12901
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَطَسَ فَحَمِدَ اللهَ ، فَقَالُوا : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَسْبَاطُ بْنُ عَزْرَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھینک آئی آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ رحم کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسباط بن عزرہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔