کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حیاء کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، اور لرائی جھگڑا کرنے کی ممانعت
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي فَأَضَعُ ثَوْبِي فَأَقُولُ : إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي ، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ ، فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُهُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اس گھر ( یعنی حجرہ ) میں داخل ہو جاتی تھی ، جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ( کی قبریں تھیں ) اور میں اپنے سر سے چادر اتار دیتی تھی ، میں یہ سمجھتی تھی کہ یہ میرے شوہر ہیں ، اور یہ میرے والد ہیں ، جب ان کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی دفن کر دیا گیا ، تو اللہ کی قسم ! میں جب بھی اس حصے میں داخل ہوتی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے چادر لے کے رکھتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12704
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (202/6)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا ، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْمُقَدَّمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے زیادہ شرمیلے تھے ، جب آپ کسی چیز کو ناپسند کرتے تھے تو آپ کے چہرے سے ہمیں اس کا اندازہ ہو جاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” حیاء مکمل بھلائی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12705
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1968)»
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَجَمَاعَةٌ ، وَكَذَّبَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جائے گا ، اور بدزبانی ( یا بے حیائی ) جفا کا حصہ ہے اور جفا جہنم میں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ بن ابونعیم ہے ، جسے ابوحاتم اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12706
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (178/18)»
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذُكِرَ عِنْدَهُ الْحَيَاءَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْحَيَاءُ مِنَ الدِّينِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعَفَافَ وَالْعِيَّ - عِيَّ اللِّسَانِ لَا عِيَّ الْقَلْبِ - وَالْعَمَلَ مِنَ الْإِيمَانِ ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ ، وَيَنْقُصْنَ مِنَ الدُّنْيَا ، وَلَمَا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا ، وَإِنَّ الشُّحَّ وَالْبَذَاءَ مِنَ النِّفَاقِ وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا وَيَنْقُصْنَ مِنَ الْآخِرَةِ ، وَلَمَا يَنْقُصْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سَوَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قره بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ کے سامنے حیاء کا ذکر کیا گیا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا حیاء دین کا حصہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ وہ ساری کی ساری دین ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حیاء ، پاکدامنی ، عاجز ہونا ، یہاں زبان کا عاجز ہونا مراد ہے ، دل کا عاجز ہونا مراد نہیں ہے ، اور عمل ایمان کا حصہ ہیں ، اور یہ آخرت میں زیادہ ہوں گے ، اور دنیا میں کم ہوں گے یہ دنیا میں زیادہ نہیں ہوں گے ، اور بخل اور بدزبانی ( یا بے حیائی ) نفاق کا حصہ ہے ، یہ دنیا میں زیادہ ہوں گے ، تو آخرت میں کمی کر دیں گے ، اور یہ دنیا میں جتنے زیادہ ہوں گے ، آخرت میں اس سے زیادہ کمی کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سوار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12707
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (29/19)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَائِشَةُ لَوْ كَانَ الْحَيَاءُ رَجُلًا كَانَ رَجُلًا صَالِحًا [ وَلَوْ كَانَ الْبُذَاءُ رَجُلًا لَكَانَ رَجُلَ سُوءٍ ] " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! حیاء اگر کسی انسان کی شکل میں ہوتی تو وہ ایک نیک شخص ہوتا اور بے حیائی کسی انسان کی شکل میں ہوتی تو وہ ایک برا شخص ہوتا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12708
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (674) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (333)»
وَعَنْ دَاوُدَ بْنِ مُصْعَبٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كُنَّا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَاسْتَقْبَلْنَا النَّاسَ قَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الْجُمُعَةِ ، فَدَخَلَ دَارًا وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : "مَنْ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ النَّاسِ ، لَا يَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثٌ فِي الْحَيَاءِ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ . ¤
محمد محی الدین
داؤد بن مصعب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، ہم لوگوں کے سامنے آئے جو جمعہ پڑھ کے واپس آ رہے تھے ، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص لوگوں سے حیاء نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ سے بھی حیاء نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے کتاب الایمان میں حیاء کے بارے میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12709
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنْ كَانَ أَوَّلُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ رَبِّي ، وَنَهَانِي عَنْهُ بَعْدَ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ ، لَمُلَاحَاةَ الرِّجَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” بتوں کی عبادت اور شراب نوشی کے بعد ، میرے پروردگار نے مجھے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں تلقین کی اور جس سے منع کیا ، وہ لوگوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن متوکل ہے ، اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12710
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف