مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُلَاحَاةِ باب: حیاء کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، اور لرائی جھگڑا کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 12705
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا ، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْمُقَدَّمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے زیادہ شرمیلے تھے ، جب آپ کسی چیز کو ناپسند کرتے تھے تو آپ کے چہرے سے ہمیں اس کا اندازہ ہو جاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” حیاء مکمل بھلائی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔