حدیث نمبر: 12704
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي فَأَضَعُ ثَوْبِي فَأَقُولُ : إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي ، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ ، فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُهُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اس گھر ( یعنی حجرہ ) میں داخل ہو جاتی تھی ، جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ( کی قبریں تھیں ) اور میں اپنے سر سے چادر اتار دیتی تھی ، میں یہ سمجھتی تھی کہ یہ میرے شوہر ہیں ، اور یہ میرے والد ہیں ، جب ان کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی دفن کر دیا گیا ، تو اللہ کی قسم ! میں جب بھی اس حصے میں داخل ہوتی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے چادر لے کے رکھتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12704
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (202/6)»