مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُلَاحَاةِ باب: حیاء کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، اور لرائی جھگڑا کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 12704
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي فَأَضَعُ ثَوْبِي فَأَقُولُ : إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي ، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ ، فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُهُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اس گھر ( یعنی حجرہ ) میں داخل ہو جاتی تھی ، جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ( کی قبریں تھیں ) اور میں اپنے سر سے چادر اتار دیتی تھی ، میں یہ سمجھتی تھی کہ یہ میرے شوہر ہیں ، اور یہ میرے والد ہیں ، جب ان کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی دفن کر دیا گیا ، تو اللہ کی قسم ! میں جب بھی اس حصے میں داخل ہوتی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے چادر لے کے رکھتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔