مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُلَاحَاةِ باب: حیاء کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، اور لرائی جھگڑا کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 12708
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَائِشَةُ لَوْ كَانَ الْحَيَاءُ رَجُلًا كَانَ رَجُلًا صَالِحًا [ وَلَوْ كَانَ الْبُذَاءُ رَجُلًا لَكَانَ رَجُلَ سُوءٍ ] " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! حیاء اگر کسی انسان کی شکل میں ہوتی تو وہ ایک نیک شخص ہوتا اور بے حیائی کسی انسان کی شکل میں ہوتی تو وہ ایک برا شخص ہوتا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔