حدیث نمبر: 12707
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذُكِرَ عِنْدَهُ الْحَيَاءَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْحَيَاءُ مِنَ الدِّينِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعَفَافَ وَالْعِيَّ - عِيَّ اللِّسَانِ لَا عِيَّ الْقَلْبِ - وَالْعَمَلَ مِنَ الْإِيمَانِ ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ ، وَيَنْقُصْنَ مِنَ الدُّنْيَا ، وَلَمَا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا ، وَإِنَّ الشُّحَّ وَالْبَذَاءَ مِنَ النِّفَاقِ وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا وَيَنْقُصْنَ مِنَ الْآخِرَةِ ، وَلَمَا يَنْقُصْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سَوَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا قره بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ کے سامنے حیاء کا ذکر کیا گیا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا حیاء دین کا حصہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ وہ ساری کی ساری دین ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حیاء ، پاکدامنی ، عاجز ہونا ، یہاں زبان کا عاجز ہونا مراد ہے ، دل کا عاجز ہونا مراد نہیں ہے ، اور عمل ایمان کا حصہ ہیں ، اور یہ آخرت میں زیادہ ہوں گے ، اور دنیا میں کم ہوں گے یہ دنیا میں زیادہ نہیں ہوں گے ، اور بخل اور بدزبانی ( یا بے حیائی ) نفاق کا حصہ ہے ، یہ دنیا میں زیادہ ہوں گے ، تو آخرت میں کمی کر دیں گے ، اور یہ دنیا میں جتنے زیادہ ہوں گے ، آخرت میں اس سے زیادہ کمی کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سوار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12707
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (29/19)»