مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُلَاحَاةِ باب: حیاء کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، اور لرائی جھگڑا کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 12710
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنْ كَانَ أَوَّلُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ رَبِّي ، وَنَهَانِي عَنْهُ بَعْدَ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ ، لَمُلَاحَاةَ الرِّجَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” بتوں کی عبادت اور شراب نوشی کے بعد ، میرے پروردگار نے مجھے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں تلقین کی اور جس سے منع کیا ، وہ لوگوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن متوکل ہے ، اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔