عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : سَأَلَتْ خَدِيجَةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمَا فِي النَّارِ " ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهَةَ فِي وَجْهِهَا ، قَالَ : " لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا أَبْغَضْتِهِمَا " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَوَلَدِي مِنْكَ ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ " ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اُن دو بچوں کے بارے میں دریافت کیا ، جو زمانہ جاہلیت میں ان کے دو بچے فوت ہوئے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ دونوں جہنم میں جائیں گے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر ناپسندیدگی دیکھی تو فرمایا : اگر تم ان دونوں کی صورت حال دیکھ لو ، تو یہ چیز تمہیں زیادہ بری لگے گی ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سے جو میرے بچے ہوئے ہیں ( اور جو بچپن میں فوت ہو گئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جنت میں جائیں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک مسلمان اور ان کی اولاد جنت میں جائیں گے اور مشرکین اور اُن کی اولاد جہنم میں جائیں گے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے ، اور ان کی ذریت نے ایمان کے ہمراہ ان کی پیروی کی ، تو ہم ان کی ذریت کو ان کے ساتھ ملا دیں گے ۔ “
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْلَادَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " إِنْ شِئْتِ أَسْمَعْتُكِ تَضَاغِيَهُمْ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو عُقَيْلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَنُقِلَ عَنْهُ تَوْثِيقُهُ فِي رِوَايَةٍ مِنْ ثَلَاثَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مشرکین کی اولاد کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم چاہو ، تو جہنم میں اُن کی شور و غوغا کی آواز ، میں تمہیں سنوا دیتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعقیل یحیی بن متوکل ہے ، جسے جمہور ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین سے اس کی توثیق بھی نقل کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعقیل یحیی بن متوکل ہے ، جسے جمہور ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین سے اس کی توثیق بھی نقل کی گئی ہے ۔
وَعَنْ خَدِيجَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ أَطْفَالِي مِنْكَ ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ " ، قُلْتُ : بِلَا عَمَلٍ ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " ، قُلْتُ : فَأَيْنَ أَطْفَالِي مِنْ قَبْلِكَ ؟ قَالَ : " فِي النَّارِ " ، قُلْتُ : بِغَيْرِ عَمَلٍ ؟ قَالَ : " لَقَدْ عَلِمَ اللَّهُ مَا كَانُوا عَامِلِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ وَابْنَ بُرَيْدَةَ لَمْ يُدْرِكَا خَدِيجَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سے میرے بچے کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں ، میں نے دریافت کیا : کسی عمل کے بغیر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے جو عمل کرنے تھے ۔ میں نے دریافت کیا : آپ سے پہلے کے جو میرے بچے ہیں وہ کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہنم میں ، میں نے عرض کی : کسی عمل کے بغیر ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ انہوں نے جو عمل کرنے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں البتہ عبداللہ بن حارث بن نوفل اور ابن بریدہ ان دونوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں البتہ عبداللہ بن حارث بن نوفل اور ابن بریدہ ان دونوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنْتُ أَقُولُ فِي أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ هُوَ مِنْهُمْ ، فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِيتُهُ ، فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ هُوَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ وَبِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : پہلے میں مشرکین کی اولاد کے بارے میں یہ رائے رکھتا تھا کہ یہ بھی ان میں شمار ہوں گے ، پھر ایک شخص نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات بتائی ، میں ان صاحب سے ملا ، تو ان صاحب نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمایا ہے : ” ان کا پروردگار ، ان کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ، اس نے انہیں پیدا کیا ہے اور وہ ان کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے اور اس چیز کے بارے میں بھی زیادہ بہتر جانتا ہے جو ان لوگوں نے عمل کرنے تھے ۔ “
وَفِي رِوَايَةٍ : فَأَمْسَكْتُ عَنْ قَوْلِي ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تو میں اپنے موقف سے رک گیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي اللَّاهِينَ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ كَلِمَةً ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوِهِ وَطَافَ فَإِذَا هُوَ بِغُلَامٍ قَدْ وَقَعَ وَهُوَ يَعْبَثُ بِالْأَرْضِ ، فَنَادَى مُنَادِيهِ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ اللَّاهِينَ ؟ " ، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ الْأَطْفَالِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ هَذَا مِنَ اللَّاهِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ میں حصہ لے رہے تھے ، ایک شخص نے آپ سے سوال کیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لہو کا شکار ہونے والوں ( یعنی بچپن میں فوت ہو جانے والوں ) کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : آپ خاموش رہے ، آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس جنگ سے فارغ ہو گئے تو آپ نے چکر لگاتے ہوئے دیکھا کہ ایک بچہ گرا ہوا تھا اور وہ زمین پر ( خاک و خون میں ) لتھڑا ہوا تھا ، آپ نے منادی کو پکار کر کہا: بچوں کے بارے میں پوچھنے والا شخص کہاں ہے ؟ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا اور پھر ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ان لوگوں نے جو عمل کرنے تھے اور یہ بچہ بھی اُن میں شامل ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهُ لِسَانُهُ ، فَإِذَا عَبَّرَ عَنْهُ لِسَانُهُ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر پیدا ہونے والا بچہ ، فطرت پر پیدا ہوتا ہے ، جب تک وہ بولنے نہیں لگتا ( یعنی بالغ نہیں ہو جاتا ) جب وہ بولنے لگے ، تو یا وہ شکرگزار ہوتا ہے ، یا کفر کرنے والا ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوجعفر رازی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوجعفر رازی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَنُقِلَ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ أَنَّهُ وَثَّقَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ، لیکن اس کے ماں باپ اُسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ضعیف ہے ، یحیی القطان سے یہ بات نقل کی گئی ہے انہوں نے اس کی توثیق کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ضعیف ہے ، یحیی القطان سے یہ بات نقل کی گئی ہے انہوں نے اس کی توثیق کی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَنُقِلَ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ أَنَّهُ وَثَّقَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور اس کے ماں باپ اُسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ضعیف ہے ، یحیی القطان سے یہ بات نقل کی گئی ہے کہ انہوں نے اس کی توثیق کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ضعیف ہے ، یحیی القطان سے یہ بات نقل کی گئی ہے کہ انہوں نے اس کی توثیق کی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مِمَّنْ لَمْ أَعْرِفُهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ وَغَيْرِهِ فِي النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْجِهَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر بچہ فطرت پیدا ہوتا ہے ، اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک سے زیادہ ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات سے منقول حدیث گزر چکی ہے ، جو جنگ کے دوران خواتین اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک سے زیادہ ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات سے منقول حدیث گزر چکی ہے ، جو جنگ کے دوران خواتین اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بارے میں ہے ۔