مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَطْفَالِ . باب: بچوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : سَأَلَتْ خَدِيجَةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمَا فِي النَّارِ " ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهَةَ فِي وَجْهِهَا ، قَالَ : " لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا أَبْغَضْتِهِمَا " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَوَلَدِي مِنْكَ ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ " ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اُن دو بچوں کے بارے میں دریافت کیا ، جو زمانہ جاہلیت میں ان کے دو بچے فوت ہوئے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ دونوں جہنم میں جائیں گے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر ناپسندیدگی دیکھی تو فرمایا : اگر تم ان دونوں کی صورت حال دیکھ لو ، تو یہ چیز تمہیں زیادہ بری لگے گی ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سے جو میرے بچے ہوئے ہیں ( اور جو بچپن میں فوت ہو گئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جنت میں جائیں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک مسلمان اور ان کی اولاد جنت میں جائیں گے اور مشرکین اور اُن کی اولاد جہنم میں جائیں گے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے ، اور ان کی ذریت نے ایمان کے ہمراہ ان کی پیروی کی ، تو ہم ان کی ذریت کو ان کے ساتھ ملا دیں گے ۔ “
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔