کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جس شخص تم دعوت نہ پہنچی ہو ، یعنی جس کا انتقال زمانہ فترت میں ہو گیا ہو یا اس کے علاوہ ( کوئی اور وجہ ) ہو
حدیث نمبر: 11936
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرْبَعَةٌ يَحْتَجُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَجُلٌ أَصَمُّ لَا يَسْمَعُ شَيْئًا ، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ ، وَرَجُلٌ هَرِمٌ ، وَرَجُلٌ مَاتَ فِي فَتْرَةٍ ، فَأَمَّا الْأَصَمُّ فَيَقُولُ : لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا ، وَأَمَّا الْأَحْمَقُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَالصِّبْيَانُ يَخْذِفُونِي بِالْبَعْرِ ، وَأَمَّا الْهَرِمُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَعْقِلُ شَيْئًا ، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي فَتْرَةٍ فَيَقُولُ : مَا أَتَانِي لَكَ رَسُولٌ فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعُنَّهُ ، فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا كَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يُعْرَضُ عَلَى اللَّهِ الْأَصَمُّ الَّذِي لَا يَسْمَعُ شَيْئًا وَالْأَحْمَقُ وَالْهَرِمُ وَرَجُلٌ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَذَكَرَ بَعْدَهُ إِسْنَادًا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ : " فَمَنْ دَخَلَهَا كَانَتْ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْهَا يُسْحَبُ إِلَيْهَا " ، هَذَا لَفْظُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ فِي طَرِيقِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الْبَزَّارِ فِيهِمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چار قسم کے لوگ ، قیامت کے دن دلیل پیش کریں گے ، ایک وہ بہرا شخص ، جو کوئی چیز نہ سنتا ہو ، ایک وہ شخص جس کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو ، ایک وہ شخص جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا ہو ، جہاں تک بہرے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ یہ کہے گا : اسلام آ گیا تھا ، لیکن میں تو کوئی چیز سنتا ہی نہیں تھا ، جہاں تک ذہنی توازن کی خرابی والے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اسلام جب آیا تھا ، تو بچے مجھے مینگنیاں مارا کرتے تھے ، جہاں تک انتہائی بوڑھے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! جب اسلام آیا تھا ، تو مجھے کسی چیز کی سمجھ بوجھ ہی نہیں رہی تھی ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا تھا ، تو وہ کہے گا : میرے پاس تیرا رسول نہیں آیا ، پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے عہد لے گا کہ وہ اس کی ضرور اطاعت کریں گے ، پھر اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو حکم دے گا کہ تم لوگ جہنم میں داخل ہو جاؤ ! “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر وہ لوگ جہنم میں داخل ہو جائیں ، تو وہ اُن کے لئے ٹھنڈک والی اور سلامتی والی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ بہرا شخص آئے گا ، جو کوئی چیز نہ سنتا ہو اور پاگل آئے گا اور انتہائی بوڑھا آئے گا اور وہ شخص آئے گا ، جو زمانہ فترت میں مر گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کے بعد انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک اس کی ایک اور سند نقل کی ہے اور دونوں کے بارے میں یہ کہا: ہے کہ اس کی مانند روایت منقول ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” جو شخص اس ( جہنم ) میں داخل ہو جائے گا ، تو وہ اُس کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گی ، اور جو شخص اس میں داخل نہیں ہو گا ، اسے گھسیٹ کر اس کی طرف لے جایا جائے گا ۔ “ روایت کے یہ الفاظ امام أحمد کے نقل کردہ ہیں اور سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، ان دونوں کے بارے میں امام بزار کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ بہرا شخص آئے گا ، جو کوئی چیز نہ سنتا ہو اور پاگل آئے گا اور انتہائی بوڑھا آئے گا اور وہ شخص آئے گا ، جو زمانہ فترت میں مر گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کے بعد انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک اس کی ایک اور سند نقل کی ہے اور دونوں کے بارے میں یہ کہا: ہے کہ اس کی مانند روایت منقول ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” جو شخص اس ( جہنم ) میں داخل ہو جائے گا ، تو وہ اُس کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گی ، اور جو شخص اس میں داخل نہیں ہو گا ، اسے گھسیٹ کر اس کی طرف لے جایا جائے گا ۔ “ روایت کے یہ الفاظ امام أحمد کے نقل کردہ ہیں اور سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، ان دونوں کے بارے میں امام بزار کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔
حدیث نمبر: 11937
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُؤْتَى بِأَرْبَعَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : بِالْمَوْلُودِ ، وَبِالْمَعْتُوهِ ، وَبِمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ ، وَبِالشَّيْخِ الْفَانِي ، كُلُّهُمْ يَتَكَلَّمُ بِحُجَّتِهِ ، فَيَقُولُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لِعُنُقٍ مِنَ النَّارِ : ابْرُزْ فَيَقُولُ لَهُمْ : إِنِّي كُنْتُ أَبْعَثُ إِلَى عِبَادِي رُسُلًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، وَإِنِّي رَسُولُ نَفْسِي إِلَيْكُمْ ، ادْخُلُوا هَذِهِ ، فَيَقُولُ مَنْ كُتِبَ عَلَيْهِ الشَّقَاءُ : يَا رَبِّ أَيْنَ نَدْخُلُهَا وَمِنْهَا كُنَّا نَفِرُّ ؟ " قَالَ : " وَمَنْ كُتِبَ عَلَيْهِ السَّعَادَةُ يَمْضِي فَيَقْتَحِمُ فِيهَا مُسْرِعًا " قَالَ : " فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَنْتُمْ لِرُسُلِي أَشَدُّ تَكْذِيبًا وَمَعْصِيَةً ، فَيُدْخِلُ هَؤُلَاءِ الْجَنَّةَ وَهَؤُلَاءِ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن چار قسم کے لوگوں کو لایا جائے گا ، کمسنی میں فوت ہونے والے بچے کو ، پاگل کو ، اس شخص کو جو زمانہ فترت میں مر گیا تھا ، اور انتہائی بوڑھے شخص کو ، اُن میں سے ہر ایک اپنی دلیل پیش کرے گا ، تو پروردگار جہنم کے ٹکڑے سے فرمائے گا کہ تم ظاہر ہو جاؤ ، پھر وہ ان لوگوں سے فرمائے گا : میں نے اپنے بندوں کی طرف رسول بھیجے ، جو ان لوگوں میں سے ہی تھے ، لیکن تم لوگوں کے بارے میں ، میں اپنے آپ کو ہی رسول بناتا ہوں ، تم اس ( جہنم ) میں داخل ہو جاؤ ! تو جس شخص کے نصیب میں بدنصیبی ہو گی ، وہ عرض کرے گا : اے ہمارے پروردگار ! ہم اس میں کیسے داخل ہوں ؟ جب کہ ہم اسی سے تو بھاگ رہے ہیں ، اور جس شخص کے نصیب میں خوش نصیبی ہو گی ، وہ جائے گا اور اس میں تیزی سے داخل ہو جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم لوگوں نے میرے رسول کی تو اس سے زیادہ شدت سے تکذیب کرنی تھی اور نافرمانی کرنی تھی ، پھر وہ ان ( فرمانبردار ) لوگوں کو جنت میں داخل کر دے گا اور ان ( نافرمان ) لوگوں کو جہنم میں داخل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11938
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْسَبُهُ - قَالَ : " يُؤْتَى بِالْهَالِكِ فِي الْفَتْرَةِ ، وَالْمَعْتُوهِ ، وَالْمَوْلُودِ ، فَيَقُولُ الْهَالِكُ فِي الْفَتْرَةِ : لَمْ يَأْتِنِي كِتَابٌ وَلَا رَسُولٌ ، وَيَقُولُ الْمَعْتُوهُ : أَيْ رَبِّ لَمْ تَجْعَلْ لِي عَقْلًا أَعْقِلُ بِهِ خَيْرًا وَلَا شَرًّا ، وَيَقُولُ الْمَوْلُودُ : لَمْ أُدْرِكِ الْعَمَلَ " ، قَالَ : " فَيُرْفَعُ لَهُمْ نَارٌ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : رُدُّوهَا - أَوْ قَالَ : ادْخُلُوهَا - فَيَدْخُلُهَا مَنْ كَانَ فِي عِلْمِ اللَّهِ سَعِيدًا أَنْ لَوْ أَدْرَكَ الْعَمَلَ " ، قَالَ : " وَيُمْسِكُ عَنْهَا مَنْ كَانَ فِي عِلْمِ اللَّهِ شَقِيًّا أَنْ لَوْ أَدْرَكَ الْعَمَلَ ، فَيَقُولُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى : إِيَّايَ عَصَيْتُمْ ، فَكَيْفَ بِرُسُلِي بِالْغَيْبِ " ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زمانہ فترت میں فوت ہونے والے شخص کو ، پاگل شخص کو ، کمسنی میں فوت ہو جانے والے شخص کو لایا جائے گا ، زمانہ فترت میں فوت ہونے والا شخص کہے گا : میرے پاس نہ تو کوئی کتاب آئی اور نہ ہی رسول آیا ، پاگل شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے میرے لئے عقل ہی نہیں بنائی کہ میں اس کے ذریعے بھلائی یا برائی کو سمجھ سکتا ، کمسنی میں فوت ہونے والا ( بچہ ) کہے گا : مجھے عمل کا زمانہ ہی نہیں ملا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو ان لوگوں کے سامنے جہنم آئے گی ، تو ان سے کہا: جائے گا : تم اس میں داخل ہو جاؤ ! تو جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہو گی کہ اگر اسے عمل کا موقع ملتا ، تو وہ سعادت مند ہوتا ، تو وہ شخص اس میں داخل ہو جائے گا اور جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ تھا کہ وہ بدنصیب ہو گا ، اگر اسے عمل کا موقع ملا ہوتا ، تو وہ شخص اس میں داخل ہونے سے رک جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم لوگ میری نافرمانی کر رہے ہو ، تو غیب کے عالم میں میرے رسولوں کے ساتھ تم نے کیا کرنا تھا ؟ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11939
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالْمَمْسُوخِ عَقْلًا ، وَبِالْهَالِكِ فِي الْفَتْرَةِ ، وَبِالْهَالِكِ صَغِيرًا ، فَيَقُولُ الْمَمْسُوخُ عَقْلًا : يَا رَبِّ لَوْ آتَيْتَنِي عَقْلًا مَا كَانَ مَنْ آتَيْتَهُ عَقْلًا بِأَسْعَدَ بِعَقْلِهِ مِنِّي ، وَيَقُولُ الْهَالِكُ فِي الْفَتْرَةِ : يَا رَبِّ لَوْ أَتَانِي مِنْكَ عَهْدٌ مَا كَانَ مَنْ أَتَاهُ مِنْكَ عَهْدٌ بِأَسْعَدَ بِعَهْدِهِ مِنِّي ، وَيَقُولُ الْهَالِكُ صَغِيرًا : لَوْ آتَيْتَنِي عُمُرًا مَا كَانَ مَنْ آتَيْتَهُ عُمُرًا بِأَسْعَدَ مِنْ عُمُرِهِ مِنِّي ، فَيَقُولُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى : إِنِّي آمُرُكُمْ بِأَمْرٍ فَتُطِيعُونِي ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ وَعِزَّتِكَ ، فَيَقُولُ : اذْهَبُوا فَادْخُلُوا النَّارَ ، فَلَوْ دَخَلُوهَا مَا ضَرَّتْهُمْ ، فَيَخْرُجُ عَلَيْهِمْ قَوَابِسُ يَظُنُّونَ أَنَّهَا قَدْ أَهْلَكَتْ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ فَيَرْجِعُونَ سِرَاعًا فَيَقُولُونَ : خَرَجْنَا يَا رَبِّ نُرِيدُ دُخُولَهَا ، فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا قَوَابِسُ ظَنَنَّا أَنَّهَا قَدْ أَهْلَكَتْ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ ، فَيَأْمُرُهُمُ الثَّانِيَةَ فَيَرْجِعُونَ كَذَلِكَ يَقُولُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى : قَبْلَ أَنْ تُخْلَقُوا عَلِمْتُ مَا أَنْتُمْ عَامِلُونَ ، وَعَلَى عِلْمِي خَلَقْتُكُمْ ، وَإِلَى عِلْمِي تَصِيرُونَ فَتَأْخُذُهُمُ النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ عِنْدَ الْبُخَارِيِّ وَغَيْرِهِ ، وَرُمِيَ بِالْكَذِبِ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ : كَانَ يَتْبَعُ السُّلْطَانَ وَكَانَ صَدُوقًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اس شخص کو لایا جائے گا ، جس کی عقل نہیں تھی ( یعنی پاگل کو لایا جائے گا ) اور زمانہ فترت میں فوت ہونے والے شخص کو لایا جائے گا اور بچپن میں ہلاک ہونے والے کو لایا جائے گا ، تو پاگل شخص کہے گا : اگر تو نے مجھے عقل دی ہوتی تو جسے تو نے عقل دی ہے وہ اپنی عقل کے حساب سے مجھ سے زیادہ سعادت مند نہ ہوتا ، زمانہ فترت میں مرنے والا کہے گا : اے میرے پروردگار ! اگر تیری طرف سے میرے پاس کوئی عہد آیا ہوتا ، تو اس عہد کے حوالے سے وہ شخص مجھ سے زیادہ سعادت مند نہیں ہونا تھا ، جس کے پاس تیری طرف سے عہد آیا تھا ، بچپن میں فوت ہونے والا شخص کہے گا : اگر تو نے مجھے اتنی عمر دی ہوتی ، جتنی عمر تو نے دوسرے لوگوں کو دی تھی ، تو اپنی عمر کے حوالے سے کسی نے مجھ سے زیادہ سعادت مند نہیں ہونا تھا ، تو پروردگار فرمائے گا : میں تمہیں ایک حکم دیتا ہوں ، کیا تم میری اطاعت کرو گے ؟ وہ عرض کریں گے : جی ہاں ! تیری عزت کی قسم ! تو پروردگار فرمائے گا : تم جاؤ اور جہنم میں داخل ہو جاؤ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اگر وہ لوگ جہنم میں داخل ہو جائیں ، تو جہنم انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ، پھر ان لوگوں کے سامنے آگ کے بھبکے آئیں گے اور وہ لوگ یہ گمان کریں گے کہ وہ ( بھبکے ) انہیں ہلاکت کا شکار کر دیں گے ، تو وہ لوگ تیزی سے واپس آ جائیں گے اور کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم اس میں داخل ہونے کے لئے نکلے تھے ، لیکن پھر ہمارے سامنے آگ کے شعلے نکل کر آئے ، تو ہم نے یہ گمان کیا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق کو ہلاکت کا شکار کر دیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ دوسری مرتبہ انہیں حکم دے گا ، وہ اس سے واپس آ جائیں گے ، اور پہلے قول کی مانند کہیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ” تم لوگوں کے تخلیق ہونے سے پہلے مجھے یہ بات پتہ تھی کہ تم لوگوں نے کیا عمل کرتے ہیں ؟ اور اپنے علم کی بنیاد پر میں نے تمہیں پیدا کیا تھا اور میرے علم کی بنیاد پر تمہارا انجام ہو گا ، تو جہنم انہیں اپنی لپیٹ میں لے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات کے نزدیک متروک ہے ، اس پر جھوٹا ہونے کا الزام ہے ، محمد بن مبارک صوری کہتے ہیں : یہ حکمرانوں کے پاس آیا جایا کرتا تھا ، ویسے یہ صدوق ہے ، معجم کبیر کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات کے نزدیک متروک ہے ، اس پر جھوٹا ہونے کا الزام ہے ، محمد بن مبارک صوری کہتے ہیں : یہ حکمرانوں کے پاس آیا جایا کرتا تھا ، ویسے یہ صدوق ہے ، معجم کبیر کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔