مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَطْفَالِ . باب: بچوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ خَدِيجَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ أَطْفَالِي مِنْكَ ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ " ، قُلْتُ : بِلَا عَمَلٍ ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " ، قُلْتُ : فَأَيْنَ أَطْفَالِي مِنْ قَبْلِكَ ؟ قَالَ : " فِي النَّارِ " ، قُلْتُ : بِغَيْرِ عَمَلٍ ؟ قَالَ : " لَقَدْ عَلِمَ اللَّهُ مَا كَانُوا عَامِلِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ وَابْنَ بُرَيْدَةَ لَمْ يُدْرِكَا خَدِيجَةَ . ¤سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سے میرے بچے کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں ، میں نے دریافت کیا : کسی عمل کے بغیر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے جو عمل کرنے تھے ۔ میں نے دریافت کیا : آپ سے پہلے کے جو میرے بچے ہیں وہ کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہنم میں ، میں نے عرض کی : کسی عمل کے بغیر ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ انہوں نے جو عمل کرنے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں البتہ عبداللہ بن حارث بن نوفل اور ابن بریدہ ان دونوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔