کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بدلے اور قصاص کے بارے میں کیا منقول ہے ؟ اور کس شخص پر بدلہ دینا لازم نہیں ہو گا ؟
عَنْ مِرْدَاسِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ : رَمَى رَجُلٌ أَخًا لَهُ فَقَتَلَهُ فَفَرَّ ، فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَأَقَادَنَا مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مرداس بن عروہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنے بھائی کو تیر مار کر اسے قتل کر دیا پھر وہ بھاگ کھڑا ہوا ہم نے اسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پایا ہم اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے بدلہ دلوایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10727
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (299/20)»
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يُقَادَ الْعَبْدُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ دو آدمیوں کے مقابلے میں کسی غلام سے بدلہ لیا جائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بنانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10728
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1529)»
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَتْ جَارِيَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ : إِنَّ سَيِّدِي اتَّهَمَنِي ، فَأَقْعَدَنِي عَلَى النَّارِ حَتَّى احْتَرَقَ فَرْجِي فَقَالَ لَهَا عُمَرُ : هَلْ رَأَى ذَلِكَ عَلَيْكِ ؟ قَالَتْ : لَا . قَالَ : فَاعْتَرَفْتِ لَهُ بِشَيْءٍ ؟ قَالَتْ : لَا . قَالَ عُمَرُ : عَلَيَّ بِهِ . ¤ فَلَمَّا أَتَى عُمَرَ الرَّجُلُ ، قَالَ : أَتُعَذِّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ ؟ قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، اتَّهَمْتُهَا فِي نَفْسِهَا ، قَالَ : رَأَيْتَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : فَاعْتَرَفَتْ لَكَ بِهِ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ ، وَلَا وَلَدٌ مِنْ وَالِدِهِ " لَأَقَدْتُهَا مِنْكَ . فَبَرَّزَهُ فَضَرَبَهُ مِائَةَ سَوْطٍ ثُمَّ قَالَ : اذْهَبِي فَأَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ ، وَأَنْتِ مُوَلَاةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ حُرِّقَ بِالنَّارِ أَوْ مُثِّلَ بِهِ ، فَهُوَ حُرٌّ ، وَهُوَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عِيسَى الْقُرَشِيُّ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَبَيَّضَ لَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک لڑکی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی: میرے مالک نے مجھ پر تہمت عائد کی ، اور اس نے مجھے آگ پر بٹھا دیا جس کے نتیجے میں میری شرمگاہ جل گئی ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کنیز سے فرمایا : کیا اس نے تمہیں کچھ کرتے ہوئے دیکھا تھا اس نے کہا: جی نہیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم نے اس کے سامنے کسی جرم کا اعتراف کیا تھا اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے میرے پاس لایا جائے اس شخص کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم اللہ کے عذاب کی طرح عذاب دیتے ہو اس نے عرض کی : اے امیر المؤمنین میں نے اس کی ذات کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا اس نے تمہارے سامنے اعتراف کیا تھا اس شخص نے جواب دیا : جی نہیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا : ” غلام کو اس کے مالک سے اور بچے کو اس کے باپ سے بدلہ نہیں دلوایا جائے گا “ ۔ تو میں نے اس عورت کو تم سے بدلہ دلوانا تھا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے لوگوں کے سامنے لے کر آئے اور اسے ایک سو کوڑے لگوائے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( کنیز سے فرمایا : ) تم جاؤ ! تم اللہ کی ذات کی خاطر آزاد ہو اور تم اللہ اور اس کے رسول کی آزاد کی ہوئی کنیز ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جسے آگ کے ذریعے جلایا جائے یا جس کا مثلہ کیا جائے تو وہ آزاد شمار ہو گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے آزاد کردہ شمار ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عیسیٰ قرشی ہے جس کا ذکر امام ذہبی نے ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ۔ انہوں نے اس راوی کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے ، اور انہوں نے اس راوی کے بارے میں کوئی جرح ذکر نہیں کی ہے ۔ انہوں نے اس کے حالات نقل کیے ہیں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10729
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنَّ زِنْبَاعًا أَبَا رَوْحٍ وَجَدَ مَعَ غُلَامٍ لَهُ جَارِيَةً لَهُ ، فَجَدَعَ أَنْفَهُ وَجَبَّهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكَ ؟ " . قَالَ : زِنْبَاعٌ ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا ؟ " . فَقَالَ : كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبْدِ : " اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَوْلَى مَنْ أَنَا ؟ فَقَالَ : " مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ " فَأَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُسْلِمِينَ . ¤ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، تَجْرِي عَلَيْكَ النَّفَقَةَ وَعَلَى عَيَالِكَ ، فَأَجْرَاهَا عَلَيْهِ حَتَّى قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ جَاءَهُ ، فَقَالَ : وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : مِصْرَ فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى صَاحِبِ مِصْرَ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْضًا يَأْكُلُهَا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي الْعِتْقِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زنباع ابوروح نے اپنے غلام کے ساتھ اپنی کنیز کو پایا تو اپنے غلام کی ناک کاٹ دی اور اس کی شرمگاہ کاٹ دی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا تمہارے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے اس غلام نے بتایا کہ زنباع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنباع کو بلوایا اور فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا اس نے بتایا کہ اس غلام نے یہ یہ جرم کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام سے فرمایا : تم جاؤ تم آزاد ہو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس کا آزاد کردہ غلام شمار ہوؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کے آزاد کردہ شمار ہو گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کے بارے میں مسلمانوں کو تلقین کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو وہ غلام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت کے مطابق کچھ کیجئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ٹھیک ہے تمہیں خرچ ملے گا تمہارے گھر والوں کو خرچ ملے گا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا خرچ مقرر کیا یہاں تک کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول کی وصیت کے بارے میں ( آپ کیا کریں گے ) ۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے تم کیا چاہتے ہو ؟ اس نے کہا: میں مصر جانا چاہتا ہوں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر کے نام خط لکھا کہ اسے اتنی زمین دے دی جائے کہ جہاں سے وہ کھا پی سکے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے اس روایت کا ایک طریق غلام آزاد کرنے سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10730
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5201) اخرجه احمد فى المسند (6710)»
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَغَّبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجِهَادِ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَاجْتَمَعُوا عَلَيْهِ حَتَّى غَمُّوهُ ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَرِيدَةٌ قَدْ نُزِعَ سِلَاهَا ، وَبَقِيَتْ سِلَاءَةٌ لَمْ يَفْطِنْ بِهَا ، فَقَالَ : " أَخِّرُوا عَنِّي - هَكَذَا - فَقَدْ غَمَمْتُمُونِي " . ¤ فَأَصَابَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَطْنَ رَجُلٍ فَأَدْمَى الرَّجُلَ ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ : هَذَا فِعْلُ نَبِيِّكَ ، فَكَيْفَ بِالنَّاسِ ؟ فَسَمِعَهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : انْطَلِقْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ كَانَ هُوَ أَصَابَكَ لَيُعْطِيَنَّكَ الْحَقَّ ، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ لَأُرْغِمَنَّكَ بِعَمَاءٍ مِنْكَ حَتَّى تُحْدِثَ . فَقَالَ الرَّجُلُ : انْطَلِقْ بِسَلَامٍ ، فَلَسْتُ أُرِيدُ أَنْ أَنْطَلِقَ مَعَكَ ، قَالَ : مَا أَنَا بِوَادِعِكَ . ¤ فَانْطَلَقَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهِ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكَ أَصَبْتَهُ ، وَأَدْمَيْتَ بَطْنَهُ ، فَمَا تَرَى ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَحَقًّا أَنَا أَصَبْتُهُ ؟ " . قَالَ الرَّجُلُ : نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " هَلْ رَأَى ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ " . قَالَ : قَدْ كَانَ هَاهُنَا نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ بِشِهَادَةِ رَجُلٍ رَأَى ذَلِكَ إِلَّا أَخْبَرَنِي " فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْتَ دَمَيْتَهُ وَلَمْ تُرْدِهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذْ لِمَا أَصَبْتُكَ مَالًا وَانْطَلِقْ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَهَبْ لِي ذَلِكَ " . قَالَ : لَا أَفْعَلُ ، قَالَ : " فَتُرِيدُ مَاذَا ؟ " قَالَ : أُرِيدُ أَنْ أَسَتَقِيدَ مِنْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " . ¤ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : اخْرُجْ مِنْ وَسَطِ هَؤُلَاءِ ، فَخَرَجَ مِنْ وَسَطِهِمْ ، وَأَمْكَنَ الرَّجُلَ مِنَ الْجَرِيدَةِ ; لِيَسْتَقِيدَ مِنْهُ ، فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ ، فَجَاءَ عُمَرُ لِيُمْسِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَلْفِهِ ، فَقَالَ : " أَرِحْنَا عَثَرْتَ بِنَعْلِكَ وَانْكَسَرَتْ أَسْنَانُكَ " . ¤ فَلَمَّا دَنَا الرَّجُلُ لِيَطْعَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْقَى الْجَرِيدَةَ ، وَقَبَّلَ سُرَّتَهُ وَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذَا أَرَدْتُ لِكَيْمَا نَقْمَعُ الْجَبَّارِينَ مِنْ بَعْدِكَ . فَقَالَ عُمَرُ : لَأَنْتَ أَوْثَقُ عَمَلًا مِنِّي . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے بارے میں ترغیب دی تو لوگ آپ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے یہاں تک کہ بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک چھڑی تھی جس کے پتے وغیرہ اتار لیے گئے تھے اور صرف چھڑی باقی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ مجھ سے پیچھے ہو جاؤ تم لوگوں نے مجھے ڈھانپ لیا ہے اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھڑی کسی شخص کے پیٹ پر لگی اور اس شخص کا خون نکل آیا ، تو وہ شخص یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ یہ تمہارے نبی کا طرز عمل ہے ، تو لوگوں کا کیا حال ہو گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن لی تو انہوں نے فرمایا : تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اگر انہوں نے تمہیں تکلیف پہنچائی ہے ، تو وہ تمہیں حق دیں گے اور اگر تم نے جھوٹ بولا: ہو گا تو میں تمہارے عمامے کے ساتھ تمہیں گھسیٹوں گا یہاں تک کہ تم اصل بات بیان کرو اس شخص نے کہا: تم آرام سے چلو میں تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : اس شخص کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے اسے تکلیف پہنچائی ہے جس کے نتیجے اس کے پیٹ سے خون نکلنے لگا ہے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ میں نے اسے تکلیف پہنچائی ہے اس شخص نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے نبی ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کسی نے یہ بات دیکھی ہے راوی بیان کرتے ہیں : ہم بہت سے مسلمان موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ میں ایک شخص کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ دے دوں گا جس نے ایسا دیکھا ہو اگر کسی نے دیکھا ہے ، تو وہ مجھے اس بارے میں بتائے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی وجہ سے اس کا خون نکل آیا تھا حالانکہ آپ نے اسے تکلیف پہنچانے کا ارادہ نہیں کیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے جو تمہیں تکلیف پہنچائی ہے تم اس کے بدلے میں مال لے لو اور چلے جاؤ اس نے کہا: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم اسے میری خاطر چھوڑ دو اس نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا پھر تم کیا چاہتے ہو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ! میں آپ سے بدلہ لینا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے اس شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ ان لوگوں کے درمیان سے باہر آ جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے باہر آ گئے آپ نے اس شخص کو وہ چھڑی دی تاکہ وہ اس کے ذریعے آپ سے بدلہ لے اور خود اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے روکیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمیں چھوڑ دو تمہارے جوتے کو ٹھوکر لگے اور تمہارے دانت ٹوٹ جائیں جب وہ شخص چبھونے کے لئے قریب ہوا تو اس نے چھڑی رکھ دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف کا بوسہ لیا اور بولا: اے اللہ کے نبی ! میرا یہی ارادہ تھا تاکہ آپ کے بعد میں ظالم حکمرانوں کا قلع قمع کر دوں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا عمل میرے مقابلے میں زیادہ قابل وثوق ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10731
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4754)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : طَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فِي بَطْنِهِ إِمَّا بِقَضِيبٍ وَإِمَّا بِسِوَاكٍ ، فَقَالَ : أَوْجَعْتَنِي فَأَقِدْنِي ، فَأَعْطَاهُ الْعُودَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ ، فَقَالَ : " اسْتَقِدْ " . فَقَبَّلَ بَطْنَهُ ، ثُمَّ قَالَ : بَلْ أَعْفُو لَعَلَّكَ أَنْ تَشْفَعَ لِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جبیر خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے پیٹ میں کوئی چیز چبھوئی جو چھڑی تھی یا شاید مسواک تھی اس نے کہا: آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے آپ مجھے بدلہ دیئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چھڑی اسے دی جو آپ کے پاس تھی اور آپ نے فرمایا : تم بدلہ لے لو اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر بوسہ دیا اور پھر عرض کی : میں درگزر کرتا ہوں تاکہ آپ اس کی وجہ سے قیامت کے دن میری شفاعت کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10732
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : لَطَمَ ابْنُ عَمِّ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَجُلًا مِنَّا ، فَخَاصَمَهُ عَمُّهُ إِلَى خَالِدٍ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَجْعَلْ لِوُجُوهِكُمْ فَضْلًا عَلَى وُجُوهِنَا إِلَّا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : اقْتَصَّ ، فَقَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ أَخِيهِ : الْطِمْ ، فَلَمَّا رَفَعَ يَدَهُ ، قَالَ : دَعْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے چچا زاد نے ہم میں سے کسی ایک کو تھپڑ مار دیا اس شخص کا چچا اپنا مقدمہ لے کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: اے قریش کے گروہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے چہروں کو ہمارے چہروں پر فضیلت نہیں دی ہے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو صرف اپنے نبی کے حوالے سے فضیلت دی ہے ، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم بدلہ لے لو اس شخص نے اپنے بھتیجے سے کہا: تم بھی تھپڑ مارو جب اس شخص نے اپنا ہاتھ بلند کیا تو اس شخص نے کہا: اسے اللہ کی خاطر چھوڑ دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10733
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3805)»