مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَوَدِ وَالْقِصَاصِ ، وَمَنْ لَا قَوَدَ عَلَيْهِ باب: بدلے اور قصاص کے بارے میں کیا منقول ہے ؟ اور کس شخص پر بدلہ دینا لازم نہیں ہو گا ؟
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَتْ جَارِيَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ : إِنَّ سَيِّدِي اتَّهَمَنِي ، فَأَقْعَدَنِي عَلَى النَّارِ حَتَّى احْتَرَقَ فَرْجِي فَقَالَ لَهَا عُمَرُ : هَلْ رَأَى ذَلِكَ عَلَيْكِ ؟ قَالَتْ : لَا . قَالَ : فَاعْتَرَفْتِ لَهُ بِشَيْءٍ ؟ قَالَتْ : لَا . قَالَ عُمَرُ : عَلَيَّ بِهِ . ¤ فَلَمَّا أَتَى عُمَرَ الرَّجُلُ ، قَالَ : أَتُعَذِّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ ؟ قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، اتَّهَمْتُهَا فِي نَفْسِهَا ، قَالَ : رَأَيْتَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : فَاعْتَرَفَتْ لَكَ بِهِ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ ، وَلَا وَلَدٌ مِنْ وَالِدِهِ " لَأَقَدْتُهَا مِنْكَ . فَبَرَّزَهُ فَضَرَبَهُ مِائَةَ سَوْطٍ ثُمَّ قَالَ : اذْهَبِي فَأَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ ، وَأَنْتِ مُوَلَاةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ حُرِّقَ بِالنَّارِ أَوْ مُثِّلَ بِهِ ، فَهُوَ حُرٌّ ، وَهُوَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عِيسَى الْقُرَشِيُّ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَبَيَّضَ لَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک لڑکی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی: میرے مالک نے مجھ پر تہمت عائد کی ، اور اس نے مجھے آگ پر بٹھا دیا جس کے نتیجے میں میری شرمگاہ جل گئی ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کنیز سے فرمایا : کیا اس نے تمہیں کچھ کرتے ہوئے دیکھا تھا اس نے کہا: جی نہیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم نے اس کے سامنے کسی جرم کا اعتراف کیا تھا اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے میرے پاس لایا جائے اس شخص کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم اللہ کے عذاب کی طرح عذاب دیتے ہو اس نے عرض کی : اے امیر المؤمنین میں نے اس کی ذات کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا اس نے تمہارے سامنے اعتراف کیا تھا اس شخص نے جواب دیا : جی نہیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا : ” غلام کو اس کے مالک سے اور بچے کو اس کے باپ سے بدلہ نہیں دلوایا جائے گا “ ۔ تو میں نے اس عورت کو تم سے بدلہ دلوانا تھا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے لوگوں کے سامنے لے کر آئے اور اسے ایک سو کوڑے لگوائے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( کنیز سے فرمایا : ) تم جاؤ ! تم اللہ کی ذات کی خاطر آزاد ہو اور تم اللہ اور اس کے رسول کی آزاد کی ہوئی کنیز ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جسے آگ کے ذریعے جلایا جائے یا جس کا مثلہ کیا جائے تو وہ آزاد شمار ہو گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے آزاد کردہ شمار ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عیسیٰ قرشی ہے جس کا ذکر امام ذہبی نے ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ۔ انہوں نے اس راوی کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے ، اور انہوں نے اس راوی کے بارے میں کوئی جرح ذکر نہیں کی ہے ۔ انہوں نے اس کے حالات نقل کیے ہیں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔