حدیث نمبر: 10730
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنَّ زِنْبَاعًا أَبَا رَوْحٍ وَجَدَ مَعَ غُلَامٍ لَهُ جَارِيَةً لَهُ ، فَجَدَعَ أَنْفَهُ وَجَبَّهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكَ ؟ " . قَالَ : زِنْبَاعٌ ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا ؟ " . فَقَالَ : كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبْدِ : " اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَوْلَى مَنْ أَنَا ؟ فَقَالَ : " مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ " فَأَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُسْلِمِينَ . ¤ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، تَجْرِي عَلَيْكَ النَّفَقَةَ وَعَلَى عَيَالِكَ ، فَأَجْرَاهَا عَلَيْهِ حَتَّى قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ جَاءَهُ ، فَقَالَ : وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : مِصْرَ فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى صَاحِبِ مِصْرَ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْضًا يَأْكُلُهَا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي الْعِتْقِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زنباع ابوروح نے اپنے غلام کے ساتھ اپنی کنیز کو پایا تو اپنے غلام کی ناک کاٹ دی اور اس کی شرمگاہ کاٹ دی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا تمہارے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے اس غلام نے بتایا کہ زنباع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنباع کو بلوایا اور فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا اس نے بتایا کہ اس غلام نے یہ یہ جرم کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام سے فرمایا : تم جاؤ تم آزاد ہو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس کا آزاد کردہ غلام شمار ہوؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کے آزاد کردہ شمار ہو گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کے بارے میں مسلمانوں کو تلقین کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو وہ غلام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت کے مطابق کچھ کیجئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ٹھیک ہے تمہیں خرچ ملے گا تمہارے گھر والوں کو خرچ ملے گا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا خرچ مقرر کیا یہاں تک کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول کی وصیت کے بارے میں ( آپ کیا کریں گے ) ۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے تم کیا چاہتے ہو ؟ اس نے کہا: میں مصر جانا چاہتا ہوں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر کے نام خط لکھا کہ اسے اتنی زمین دے دی جائے کہ جہاں سے وہ کھا پی سکے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے اس روایت کا ایک طریق غلام آزاد کرنے سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10730
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5201) اخرجه احمد فى المسند (6710)»