مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَوَدِ وَالْقِصَاصِ ، وَمَنْ لَا قَوَدَ عَلَيْهِ باب: بدلے اور قصاص کے بارے میں کیا منقول ہے ؟ اور کس شخص پر بدلہ دینا لازم نہیں ہو گا ؟
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : لَطَمَ ابْنُ عَمِّ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَجُلًا مِنَّا ، فَخَاصَمَهُ عَمُّهُ إِلَى خَالِدٍ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَجْعَلْ لِوُجُوهِكُمْ فَضْلًا عَلَى وُجُوهِنَا إِلَّا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : اقْتَصَّ ، فَقَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ أَخِيهِ : الْطِمْ ، فَلَمَّا رَفَعَ يَدَهُ ، قَالَ : دَعْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے چچا زاد نے ہم میں سے کسی ایک کو تھپڑ مار دیا اس شخص کا چچا اپنا مقدمہ لے کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: اے قریش کے گروہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے چہروں کو ہمارے چہروں پر فضیلت نہیں دی ہے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو صرف اپنے نبی کے حوالے سے فضیلت دی ہے ، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم بدلہ لے لو اس شخص نے اپنے بھتیجے سے کہا: تم بھی تھپڑ مارو جب اس شخص نے اپنا ہاتھ بلند کیا تو اس شخص نے کہا: اسے اللہ کی خاطر چھوڑ دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔