حدیث نمبر: 10731
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَغَّبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجِهَادِ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَاجْتَمَعُوا عَلَيْهِ حَتَّى غَمُّوهُ ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَرِيدَةٌ قَدْ نُزِعَ سِلَاهَا ، وَبَقِيَتْ سِلَاءَةٌ لَمْ يَفْطِنْ بِهَا ، فَقَالَ : " أَخِّرُوا عَنِّي - هَكَذَا - فَقَدْ غَمَمْتُمُونِي " . ¤ فَأَصَابَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَطْنَ رَجُلٍ فَأَدْمَى الرَّجُلَ ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ : هَذَا فِعْلُ نَبِيِّكَ ، فَكَيْفَ بِالنَّاسِ ؟ فَسَمِعَهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : انْطَلِقْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ كَانَ هُوَ أَصَابَكَ لَيُعْطِيَنَّكَ الْحَقَّ ، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ لَأُرْغِمَنَّكَ بِعَمَاءٍ مِنْكَ حَتَّى تُحْدِثَ . فَقَالَ الرَّجُلُ : انْطَلِقْ بِسَلَامٍ ، فَلَسْتُ أُرِيدُ أَنْ أَنْطَلِقَ مَعَكَ ، قَالَ : مَا أَنَا بِوَادِعِكَ . ¤ فَانْطَلَقَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهِ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكَ أَصَبْتَهُ ، وَأَدْمَيْتَ بَطْنَهُ ، فَمَا تَرَى ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَحَقًّا أَنَا أَصَبْتُهُ ؟ " . قَالَ الرَّجُلُ : نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " هَلْ رَأَى ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ " . قَالَ : قَدْ كَانَ هَاهُنَا نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ بِشِهَادَةِ رَجُلٍ رَأَى ذَلِكَ إِلَّا أَخْبَرَنِي " فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْتَ دَمَيْتَهُ وَلَمْ تُرْدِهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذْ لِمَا أَصَبْتُكَ مَالًا وَانْطَلِقْ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَهَبْ لِي ذَلِكَ " . قَالَ : لَا أَفْعَلُ ، قَالَ : " فَتُرِيدُ مَاذَا ؟ " قَالَ : أُرِيدُ أَنْ أَسَتَقِيدَ مِنْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " . ¤ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : اخْرُجْ مِنْ وَسَطِ هَؤُلَاءِ ، فَخَرَجَ مِنْ وَسَطِهِمْ ، وَأَمْكَنَ الرَّجُلَ مِنَ الْجَرِيدَةِ ; لِيَسْتَقِيدَ مِنْهُ ، فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ ، فَجَاءَ عُمَرُ لِيُمْسِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَلْفِهِ ، فَقَالَ : " أَرِحْنَا عَثَرْتَ بِنَعْلِكَ وَانْكَسَرَتْ أَسْنَانُكَ " . ¤ فَلَمَّا دَنَا الرَّجُلُ لِيَطْعَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْقَى الْجَرِيدَةَ ، وَقَبَّلَ سُرَّتَهُ وَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذَا أَرَدْتُ لِكَيْمَا نَقْمَعُ الْجَبَّارِينَ مِنْ بَعْدِكَ . فَقَالَ عُمَرُ : لَأَنْتَ أَوْثَقُ عَمَلًا مِنِّي . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے بارے میں ترغیب دی تو لوگ آپ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے یہاں تک کہ بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک چھڑی تھی جس کے پتے وغیرہ اتار لیے گئے تھے اور صرف چھڑی باقی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ مجھ سے پیچھے ہو جاؤ تم لوگوں نے مجھے ڈھانپ لیا ہے اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھڑی کسی شخص کے پیٹ پر لگی اور اس شخص کا خون نکل آیا ، تو وہ شخص یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ یہ تمہارے نبی کا طرز عمل ہے ، تو لوگوں کا کیا حال ہو گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن لی تو انہوں نے فرمایا : تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اگر انہوں نے تمہیں تکلیف پہنچائی ہے ، تو وہ تمہیں حق دیں گے اور اگر تم نے جھوٹ بولا: ہو گا تو میں تمہارے عمامے کے ساتھ تمہیں گھسیٹوں گا یہاں تک کہ تم اصل بات بیان کرو اس شخص نے کہا: تم آرام سے چلو میں تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : اس شخص کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے اسے تکلیف پہنچائی ہے جس کے نتیجے اس کے پیٹ سے خون نکلنے لگا ہے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ میں نے اسے تکلیف پہنچائی ہے اس شخص نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے نبی ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کسی نے یہ بات دیکھی ہے راوی بیان کرتے ہیں : ہم بہت سے مسلمان موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ میں ایک شخص کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ دے دوں گا جس نے ایسا دیکھا ہو اگر کسی نے دیکھا ہے ، تو وہ مجھے اس بارے میں بتائے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی وجہ سے اس کا خون نکل آیا تھا حالانکہ آپ نے اسے تکلیف پہنچانے کا ارادہ نہیں کیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے جو تمہیں تکلیف پہنچائی ہے تم اس کے بدلے میں مال لے لو اور چلے جاؤ اس نے کہا: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم اسے میری خاطر چھوڑ دو اس نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا پھر تم کیا چاہتے ہو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ! میں آپ سے بدلہ لینا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے اس شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ ان لوگوں کے درمیان سے باہر آ جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے باہر آ گئے آپ نے اس شخص کو وہ چھڑی دی تاکہ وہ اس کے ذریعے آپ سے بدلہ لے اور خود اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے روکیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمیں چھوڑ دو تمہارے جوتے کو ٹھوکر لگے اور تمہارے دانت ٹوٹ جائیں جب وہ شخص چبھونے کے لئے قریب ہوا تو اس نے چھڑی رکھ دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف کا بوسہ لیا اور بولا: اے اللہ کے نبی ! میرا یہی ارادہ تھا تاکہ آپ کے بعد میں ظالم حکمرانوں کا قلع قمع کر دوں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا عمل میرے مقابلے میں زیادہ قابل وثوق ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10731
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4754)»