کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قسامت کا بیان ، نیز جب کسی قوم کے علاقے میں کوئی شخص مقتول پایا جائے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : وُجِدَ قَتِيلٌ أَوْ مَيِّتٌ بَيْنَ قَرْيَتَيْنِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَرَعَ مَا بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ أَيُّهُمَا كَانَ أَقْرَبَ فَوُجِدَ أَقْرَبَ إِلَى أَحَدِهِمَا بِشِبْرٍ ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى شِبْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَهُ عَلَى الَّذِي كَانَ أَقْرَبَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو بستیوں کے درمیان ایک شخص مقتول ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) میت کے طور پر پایا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا دونوں بستیوں کے درمیان پیمائش کی گئی کہ وہ شخص کون سی بستی کے زیادہ قریب ہے ، تو وہ ان دونوں بستیوں میں سے ایک بستی کے ایک بالشت زیادہ قریب تھا راوی بیان کرتے ہیں : گویا میں اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بالشت کی طرف دیکھ رہا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا معاملہ ان لوگوں کے خلاف قرار دیا جس ( بستی ) کے وہ زیادہ قریب تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10734
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1534) اخرجه احمد فى المسند (39/3)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كَانَتِ الْقَسَامَةُ فِي الدَّمِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَذَلِكَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُقِدَ تَحْتَ اللَّيْلِ ، فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَقَالُوا : إِنَّ صَاحِبَنَا يَتَشَخَّطُ فِي دَمِهِ . ¤ فَقَالَ : " تَعْرِفُونَ قَاتِلَهُ ؟ " . قَالُوا : لَا ، إِلَّا أَنَّ قَتَلَتْهُ يَهُودُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْتَارُوا مِنْهُمْ خَمْسِينَ رَجُلًا فَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ ، ثُمَّ خُذُوا مِنْهُمُ الدِّيَةَ " . فَفَعَلُوا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَامِينَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر ایک قتل کے بارے میں قسامت ہوئی تھی اس کی صورت یوں ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب رات کے وقت غیر موجود پائے گئے انصار آئے اور انہوں نے بتایا کہ ہمارا ساتھی خون میں لت پت ( مقتول ) ملا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ اس کے قاتل سے واقف ہو انہوں نے جواب دیا : جی نہیں البتہ یہودیوں نے انہیں قتل کیا ہو گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ ان میں سے پچاس افراد کو منتخب کرو وہ اللہ کے نام پر یہ قسم اٹھائیں اور پھر تم ان سے دیت وصول کر لینا تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یامین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10735
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1535)»
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتِ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ حِجَازًا بَيْنَ النَّاسِ ، فَكَانَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ أَثِمَ فِيهَا ، أُرِيَ عُقُوبَةً مِنَ اللَّهِ يُنَكِّلُ بِهَا عَنِ الْجَرْأَةِ عَلَى الْمَحَارِمِ ، فَكَانُوا يَتَوَرَّعُونَ عَنْ أَيْمَانِ الصَّبْرِ وَيَخَافُونَهَا . ¤ فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقَسَامَةِ ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ هُمْ أَهْيَبَ لَهَا ، لِمَا عَلَّمَهُمْ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقَسَامَةِ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ ، يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو حَارِثَةَ ، وَذَلِكَ أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْ مُحَيِّصَةَ ، فَأَنْكَرَتِ الْيَهُودُ . ¤ فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْيَهُودَ لِقَسَامَتِهِمْ ، لِأَنَّهُمُ الَّذِينَ ادَّعَوُا الدَّمَ ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَحْلِفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا خَمْسِينَ رَجُلًا كَبِيرًا مَنْ قَتَلَهُ . فَنَكَلَتْ يَهُودُ عَنِ الْأَيْمَانِ . ¤ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي حَارِثَةَ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْلِفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا خَمْسِينَ رَجُلًا أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْهُ غِيلَةً ، وَيَسْتَحِقُّونَ بِذَلِكَ الَّذِي يَزْعُمُونَ أَنَّهُ الَّذِي قَتَلَ صَاحِبَهُمْ ، فَنَكَلَتْ بَنُو حَارِثَةَ عَنِ الْأَيْمَانِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِعَقْلِهِ عَلَى يَهُودَ لِأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ ، وَفِي دِيَارِهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں قسامت لوگوں کے درمیان رکاوٹ ہوتی تھی اس میں ہوتا یہ تھا کہ جب کوئی شخص کوئی جھوٹی قسم اٹھاتا تھا اور اس قسم اٹھانے میں گناہ گار ہوتا تھا ، تو یہ بات سمجھی جاتی تھی کہ اب اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ملے گی جس کے ذریعے اسے اس بات کی سزا دی جائے گی کہ اس نے حرمت والے کام کے حوالے سے جرات کی ہے ، تو وہ لوگ جھوٹی قسم اٹھانے سے پرہیز کرتے تھے اور اس سے خوف زدہ رہتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو قسامت کے حکم کے ہمراہ مبعوث کیا ( یعنی آپ کو اس بارے میں حکم دیا ) تو مسلمان اس سے زیادہ خوف زدہ ہو گئے کیونکہ وہ اس بات سے واقف تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے دو گروہوں کے درمیان قسامت کا فیصلہ دیا ان لوگوں کو بنو حارثہ کہا: جاتا تھا اس کی صورت یوں ہوئی کہ یہودیوں نے سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا اور یہودیوں نے اس بات سے انکار کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامت کے لئے یہودیوں کو بلوایا کیونکہ ان لوگوں نے خون کا دعوی کیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ پچاس افراد قسم اٹھائیں پچاس بڑے افراد اس قتل کے حوالے سے قسم اٹھائیں گے یہودیوں نے قسم اٹھانے سے انکار کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو حارثہ کو بلوایا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ پچاس افراد قسمیں اٹھائیں جو پچاس افراد اٹھائیں گے کہ یہودیوں نے انہیں دھوکے کے ساتھ قتل کیا ہے ، اور اس کے نتیجے میں وہ اس کے حق دار ہو جائیں گے جو ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھیوں کو یہودیوں نے قتل کیا ہے ۔ تو بنو حارثہ نے بھی قسم اٹھانے سے انکار کر دیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال ملاحظہ فرمائی تو آپ نے اس مقتول کی دیت کی ادائیگی یہودیوں پر لازم قرار دی کیونکہ وہ مقتول ان لوگوں کے درمیان اور ان کے علاقے میں پایا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10736
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10737)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَتِ الْقَسَامَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِتَكُونَ أَكَفَّ لِلنَّاسِ عَنِ الدِّمَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزَّبِيدِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ وَأَغْرَبَ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ مُوسَى بْنُ عِيسَى الزَّبِيدِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قسامت زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا ہے کیونکہ اس طرح قتل و غارت گری کو لوگوں کے لئے روکا جا سکتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یوسف زبیدی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : بعض اوقات یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور غریب روایت نقل کرتا ہے اس روایت میں امام طبرانی کے استاد موسیٰ بن عیسیٰ زبیدی ہیں میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10737
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَافِدٍ ; أَنَّ الْيَمِينَ فِي الدَّمِ قَدْ كَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَارِيَةَ الْعَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن وافد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں قتل کے بارے میں قسم اٹھانے کا رواج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بھی تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبدالمالک بن ساریہ عکی کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن وافد رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اور میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10738
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف