مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَوَدِ وَالْقِصَاصِ ، وَمَنْ لَا قَوَدَ عَلَيْهِ باب: بدلے اور قصاص کے بارے میں کیا منقول ہے ؟ اور کس شخص پر بدلہ دینا لازم نہیں ہو گا ؟
حدیث نمبر: 10732
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : طَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فِي بَطْنِهِ إِمَّا بِقَضِيبٍ وَإِمَّا بِسِوَاكٍ ، فَقَالَ : أَوْجَعْتَنِي فَأَقِدْنِي ، فَأَعْطَاهُ الْعُودَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ ، فَقَالَ : " اسْتَقِدْ " . فَقَبَّلَ بَطْنَهُ ، ثُمَّ قَالَ : بَلْ أَعْفُو لَعَلَّكَ أَنْ تَشْفَعَ لِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جبیر خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے پیٹ میں کوئی چیز چبھوئی جو چھڑی تھی یا شاید مسواک تھی اس نے کہا: آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے آپ مجھے بدلہ دیئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چھڑی اسے دی جو آپ کے پاس تھی اور آپ نے فرمایا : تم بدلہ لے لو اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر بوسہ دیا اور پھر عرض کی : میں درگزر کرتا ہوں تاکہ آپ اس کی وجہ سے قیامت کے دن میری شفاعت کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔